1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت: عصمت دری کے صرف ایک تہائی معاملات میں مجرموں کو سزا

جاوید اختر، نئی دہلی
4 دسمبر 2019

بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو کے مطابق ملک میں عصمت دری کے معاملات میں مجرموں کو سزا کی شرح محض 32.2 فیصد ہے۔ جو قتل کے معاملات میں سزاؤں کی شرح سے بھی کم ہے۔

https://p.dw.com/p/3UDpD
Symbolbild Gruppenvergewaltigung in Indien
تصویر: picture-alliance/AP Photo/R. Maqbool

بھارتی شہر حیدرآباد میں ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ عصمت دری اور قتل کے واقعے کے خلاف گو ملک بھر میں غم و غصے اور ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن سرکاری اعدادو شمار کے مطابق عصمت دری کے صرف ایک تہائی معاملات میں ہی مجرموں کو سزا ہوپاتی ہے۔

بھارت میں جرائم کے اعداد و شمار جمع کرنے والے ادارے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو(NCRB) نے اپنی تازہ رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں عصمت دری کے معاملات میں مجرموں کو سزا کی قومی شرح محض 32.2 فیصد ہے جو قتل کے معاملات میں سزاؤں کی شرح سے بھی کم ہے۔ یہ رپورٹ 2017ء میں ہوئے جرائم کے اعداد و شمار پر مبنی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق قتل کے معاملات میں 43.1 فیصد سزائیں سنائی گئیں۔

Indien Pakistan Symbolbild Vergewaltigung
بھارت میں حالیہ برسوں میں عصمت دری کے معاملات میں سزاؤں کی تعداد میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے۔تصویر: Getty Images

تشویش کی بات یہ بھی ہے کہ حالیہ برسوں میں عصمت دری کے معاملات میں سزاؤں کی تعداد میں نسبتاً اضافہ ہوا ہے لیکن ان معاملات میں چارج شیٹ داخل کرنے کی شرح کم ہوئی ہے۔ این سی آر بی کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ 2013ء میں عصمت دری کے معاملات میں چارج شیٹ کی شرح 95.4 فیصد تھی 2017ء میں گھٹ کر 86.6 فیصد رہ گئی ہے۔ 2017ء میں عصمت دری کے 1,46,201 مقدمات درج کرائے گئے۔ ان میں سے صرف 18,333 معاملات کی عدالتوں میں سماعت ہوسکی۔ جن مقدمات کی سماعت مکمل ہوئی ان میں سے صرف 5,822 کو ہی قصور وار ٹھہرایا گیا۔ 11,453مقدمات میں ملزمان کو بری کردیا گیا اور 824 مقدمات خارج کردیے گئے۔

سپریم کورٹ کی وکیل کرونانندی کہتی ہیں، ”بھارت میں عصمت دری کے واقعات کے متعلق سرکاری اعداد وشمار حقیقت سے کافی دور ہوتے ہیں۔کیونکہ متاثرین کی اکثریت سماجی بدنامی کے خوف سے پولیس کے پاس جاکر مقدمہ درج ہی نہیں کراتی اور جو ہمت کر کے پولیس کے پاس پہنچ جاتے ہیں انہیں اور ان کے گھر والوں کو طویل اور غیر یقینی قانونی لڑائی سے گزرنا پڑتا ہے۔"

یوں تو حکومت نے عصمت دری جیسے جرائم کے مقدمات کی تیز رفتار سماعت کے لیے فاسٹ ٹریک کورٹ قائم کر رکھے ہیں تاہم وہاں سنائے گئے فیصلوں کو بعد میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2017ء میں عصمت دری کے جن مقدمات کی سماعت ہوپائی ان میں سے ایک تہائی معاملات تین برس پرانے تھے جب کہ بارہ ہزار سے زائد معاملات پانچ برس سے زیر التوا تھے۔

Symbolbild Protest gegen Vergewaltigungen in Indien
2012ء میں نئی دہلی میں میڈیکل کی ایک طالبہ نربھیا کی اجتماعی عصمت دری اور موت پر ملک بھر میں زبردست ہنگامہ ہوا تھا۔تصویر: picture-alliance/AP Photo/Saurabh Das

عصمت دری کے مجرموں کے خلاف تیزی سے مقدمہ چلانے اور انہیں سخت سزائیں دینے کی ضرورت پرزور دیتے ہوئے وفاقی وزیر  ہرسمت کور بادل کا کہنا تھا، ”میں حکومت سے اپیل کروں گی کہ عصمت دری کے معاملات میں فیصلہ متاثرہ خاتون یا لڑکی کی عمر کے مساوی مہینے کے اندر کردیا جائے اس لیے اگر متاثرہ لڑکی کی عمر بیس سال ہے تو بیس ماہ کے اندر فیصلہ ہوجانا چاہیے۔" انہوں نے پارلیمان میں کہا کہ حیدرآباد کی خاتون ڈاکٹر کی عصمت دری اور قتل کے معاملہ میں فیصلہ چند مہینوں کے اندر سنا دیا جائے گا اور مجرموں کو رحم کی اپیل دائر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ سزائے موت پانے والے مجرموں کے لیے رحم کی اپیل دائر کرنے کا کوئی امکان نہیں رہنا چاہیے۔

2012ء میں نئی دہلی میں میڈیکل کی ایک طالبہ نربھیا کی اجتماعی عصمت دری اور موت پر ملک بھر میں زبردست ہنگامہ ہوا تھا جس کے بعد حکومت نے خواتین کے تحفظ کے حوالے سے متعدد اقدامات کیے تھے۔ وفاقی حکومت خواتین کے تحفظ کے لیے صوبائی حکومتوں کو اپنے یہاں منصوبوں کے نفاذ کے لیے خصوصی فنڈ بھی فراہم کرتی ہے لیکن ان کا مناسب استعمال نہیں ہوپاتا ہے۔ خواتین اور بہبود اطفال کی وزارت کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ بتاتی ہے کہ کئی صوبوں نے اس فنڈ سے ایک پیسہ بھی استعمال نہیں کیا۔ دہلی میں جہاں خواتین کے خلاف تشدد اور ہراساں کرنے کے سب سے زیادہ واقعات ہوتے ہیں وہاں حکومت نے انتالیس ہزار لاکھ روپے سے زیادہ حاصل شدہ رقم میں سے صرف ایک ہزار نو سو اکتالیس لاکھ روپے کا ہی استعمال کیا۔ڈی ڈبلیو کے ایڈیٹرز ہر صبح اپنی تازہ ترین خبریں اور چنیدہ رپورٹس اپنے پڑھنے والوں کو بھیجتے ہیں۔ آپ بھی یہاں کلک کر کے یہ نیوز لیٹر موصول کر سکتے ہیں۔