1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت: مذہبی تحفظ کا مطالبہ کرنے والے سینکڑوں مسیحی گرفتار

کشور مصطفیٰ5 فروری 2015

یہ مظاہرین نئی دہلی کے مرکزی کیتھیڈرل کے سامنے جمع ہوئے تھے جہاں سے انہیں پولیس نے زور زبردستی گھسیٹ کر بسوں میں بٹھایا اور ایک قریبی پولیس اسٹیشن پہنچا دیا۔

https://p.dw.com/p/1EW6k
تصویر: Reuters/A. Mukherjee

بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں جمعرات کو سینکڑوں مسیحیوں اور پولیس کے مابین تصادم ہوا۔ یہ کرسچین باشندے معاشرے میں تیزی سے بڑھتے ہوئے غیر روادارانہ جذبات کے خلاف موثر اقدامات کا مطالبہ کر رہے تھے۔ خاص طور سے کچھ عرصے کے دوران بھارت میں کلیساؤں پر ہونے والے سلسلہ وار حملوں کے تناظر میں مسیحی آبادی مودی حکومت سے تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے۔

جمعرات کو نئی دہلی میں مظاہرے کرنے والے اُن سینکڑوں مسیحیوں کو پولیس نے اُس وقت گرفتار کر لیا جب وہ وزیر داخلہ کی رہائش کی طرف بڑھنے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ یہ مظاہرین حکومت سے بھارت میں گزشتہ دنوں مختلف کلیساؤں پر ہونے والے حملوں کی تفتیش کا مطالبہ کرنا چاہتے تھے۔

گزشتہ دو ماہ کے دوران نئی دہلی کے اندر اور کئی دیگر علاقوں میں قائم کلیساؤں پر نہایت پُر ارسرار حملے ہوئے، ان میں آگ لگائی گئی، دیگر کلیساؤں کو نقصان پہنچایا گیا۔ مسیحی مظاہرین کا ماننا ہے کہ یہ دہشت گردانہ حملے انتہا پسند ہندوؤں نے کیے ہیں۔ مظاہرے کرنے والوں نے ہاتھوں میں جو بینرز اُٹھا رکھے تھے اُس پر درج تھا، "بہت ہو گئی، پولیس کیا کر رہی ہے؟۔

Indien Protest Christen gegen Anschläge auf Kirchen 05.02.2015
نئی دہلی کے اندر اور کئی دیگر علاقوں میں قائم کلیساؤں پر نہایت پُر ارسرار حملے ہوئے ہیںتصویر: picture-alliance/AP/M. Swarup

یہ مظاہرین نئی دہلی کے مرکزی کیتھیڈرل کے سامنے جمع ہوئے تھے جہاں سے انہیں پولیس نے زور زبردستی گھسیٹ کر بسوں میں بٹھایا اور ایک قریبی پولیس اسٹیشن پہنچا دیا۔ گرفتار ہونے والے مظاہرین میں متعدد ننیں اور پادری بھی شامل ہیں۔ پولیس نے کہا ہے کہ ان مسیحی باشندوں کو اس لیے گرفتار کیا گیا ہے کہ یہ ہوم منسٹر راجناتھ سنگھ کے رہائشی علاقے میں مظاہرے کر رہے تھے جبکہ اس علاقے میں احتجاج یا مظاہرے پر پابندی ہے۔

ایک سینیئر پولیس آفیسر مُکیش کُمار مینا نے نیو دہلی ٹیلی وژن نیٹ ورک کو بیان دیتے ہوئے کہا،" مظاہرین کو سڑکوں پر مظاہرے کی اجازت نہیں ہے، یہ مُنہ اُٹھا کر وزیر داخلہ کی رہائش کی طرف نہیں بڑھ سکتے۔ ہمیں اہم شخصیات کے گھروں کی حفاظت کرنا ہے" ۔

بھارت کے کلیساؤں کے لیڈروں نے اس امر پر گہری مایوسی کا اظہار کیا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے آج تک کلیساؤں پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

Pastor Anthony Francis in einer Kirche in Neu Delhi
حملہ آور چرچوں میں گُھس کر مقدس چیزوں کی بےحُرمتی بھی کرتے ہیںتصویر: Florent Martin

بھارت کی کُل 1.26 بلین آبادی کا 2.3 فیصد مسیحیوں پر مشتمل ہے۔ دنیا کی اس سب سے بڑی جمہوریت میں آباد مسیحی برادری کا کہنا ہے کہ گزشتہ مئی میں ہندو بنیاد پرست سیاسی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد ملک میں چرچوں پر حملوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ پیر کو چند نامعلوم افراد ایک چرچ کےدروازے توڑ کر اُس میں داخل ہو گئے اور انہوں نے وہاں کی مقدس چیزوں کی بےحُرمتی کی۔ گزشتہ برس دسمبر کے بعد سے اب تک بھارت میں عیسائیوں کی عبادت گاہ پر ہونے والا یہ پانچواں حملہ تھا۔