1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارتی آرمی چیف کا دعویٰ، آئی ایس پی آر کی تردید

21 اکتوبر 2019

بھارتی فوج کے سربراہ نے گزشتہ روز دعویٰ کیا تھا کہ بھارتی فوج نے لائن آف کنٹرول پر بھاری فائر کے ذریعے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں 'دہشت گردی کے کیمپ‘ تباہ کر دیے ہیں۔ پاکستانی فوج نے اس کی تردید کی ہے۔

https://p.dw.com/p/3RcG1
Kaschmir | Indien | Pakistan | Grenze | Chakothi
تصویر: AFP/Getty Images/A. Qureshi

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بِپن راوت نے اتوار 20 اکتوبر کو نئی دہلی میں صحافیوں کو بتایا کہ پاکستان کی جانب سے 'بلا اشتعال فائرنگ‘ کے نتیجے میں بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاقے کپواڑہ میں دو بھارتی فوجی اور ایک عام شہری مار ا گیا۔ جنرل راوت کے مطابق ان کے فوجیوں نے بھاری توپخانے سے جوابی کارروائی کرتے ہوئے سرحد پار 'دہشت گردی کے کیمپوں‘ کو نشانہ بنایا۔

بھارتی خبر رساں ادارے پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق ملکی فوجی سربراہ نے صحافیوں کے بتایا، ''ہمارے پاس ان کیمپوں کے بارے میں قطعی معلومات اور کورآڈینیٹس موجود ہیں اور ہماری فورسز کی جوابی کارروائی میں ہم نے دہشت گردی کے ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔‘‘

Indien, Kaschmir, Budgam: Soldaten stehen an den Trümmern des Hubschraubers der Indian Air Force
تصویر: Reuters/D. Ismail

جنرل بپن راوت کا مزید کہنا تھا کہ شیلنگ کے بعد سے بھارتی فورسز نے پاکستانی جانب سے 'کوئی بھی موبائل رابطہ کاری نہیں سنی‘ جس کا مطلب ہے کہ ''وہاں ہلاکتیں اور نقصان ہوا ہے جسے پاکستانی فوج چھپانا چاہتی ہے‘‘۔

بھارتی فوجی سربراہ کا دعویٰ مایوس کن ہے، پاکستانی فوج

پاکستانی فوج نے بھارتی آرمی چیف کے دعوے کو رد کرتے ہوئے اسے 'مایوس کن‘ قرار دیا ہے۔ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ نے اپنے ایک ٹوئیٹر پیغام میں لکھا، ''بھارتی فوج کے سربراہ کی طرف سے اے جے کے میں تین مبینہ کیمپوں کی تباہی کا دعویٰ مایوس کن ہے کیونکہ ان کے پاس ایک انتہائی ذمہ دارانہ عہدہ ہے۔ ان کو نشانہ بنانے کا دعویٰ تو درکنار وہاں ایسا کوئی کیمپ ہی نہیں ہے۔ پاکستان میں موجود بھارتی ایمبیسی کا خیر مقدم کیا جائے گا اگر وہ کسی غیر ملکی سفارت کار یا میڈیا کے ذریعے زمین پر اپنے اس دعوے کو ثابت کرنا چاہے۔‘‘

ڈی جی آئی ایس پی آر کے ٹوئیٹ میں مزید کہا گیا ہے، ''بھارتی فوجی لیڈر شپ کی طرف سے خاص طور پر پلوامہ حملے کے بعد، کیے جانے والے غلط دعوے علاقائی امن کے لیے نقصان دہ ہیں۔ بھارتی فوج کے ایسے دعوے داخلی فوائد حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ یہ پیشہ ورانہ فوجی اخلاقیات کے خلاف ہے۔‘‘

Kaschmir Unruhen
تصویر: Imago/Zuma Press

دو طرفہ فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 10 ہلاکتیں

دوسری طرف کشمیر میں لائن آف کنٹرول پر پاکستان اور بھارت کے درمیان گولہ باری میں فوجیوں سمیت کم از کم دس لوگوں کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ بھارتی حکام نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں دو فوجیوں سمیت تین افراد مارے گئے تھے۔ دوسری طرف اسلام آباد نے بھارتی فورسز پر بلا اشتعال فائرنگ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتیجے میں چھ عام شہری مارے گئے جبکہ ایک پاکستانی فوجی بھی اس فائرنگ سے مارا گیا۔

تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کی طرف سے جاری ٹوئیٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی جوابی کارروائی سے بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد بھارتی فوج زخمیوں اور مرنے والوں کو وہاں سے نکالنے کے لیے سفید جھنڈے بلند کر رہی ہے۔

ا ب ا / ع ا (اے ایف پی، پی ٹی آئی)

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں