1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارتی سپريم کورٹ کے چھ جج ’سوائن فلو‘ کا شکار

25 فروری 2020

بھارتی سپريم کورٹ کے کئی ججوں سميت غير ملکی وفد کے ارکان امکاناً سوائن فلو کا شکار ہو چکے ہيں۔ کئی ججوں کی غیر حاضری کے سبب معمول کی عدالتی سرگرمياں متاثر ہو رہی ہيں۔

https://p.dw.com/p/3YOg8
Indien Oberster Gerichtshof in Neu Dehli
تصویر: picture-alliance/NurPhoto/N. Kachroo

بھارتی عدالت عظمی کے چھ ججز 'ايچ ون اين ون‘ نامی وائرس کا شکار ہو گئے ہيں، جسے عموماً سوائن فلو کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس بارے ميں اطلاع سپريم کورٹ کے ايک اور جج دھنن جئے وائی چندر چُوڑ نے آج منگل 25 فروری کو دی۔ انہوں نے مزيد بتايا کہ چيف جسٹس شرد اروند بوبدے کے ساتھ جلد ملاقات کی جائے گی اور ان سے اس معاملے پر بات چيت کی جائے گی۔ امکان ہے کہ سپريم کورٹ کے تمام ملازمين کو ويکسينيشن فراہم کی جائيں۔

مقامی نيوز ايجنسی IANS کے مطابق ايک جج سنجيو کھنہ عدالت ميں چہرے پر ماسک پہن کر آئے، جس سے امکاناً وائرس کا پتہ چلا۔ سوائن فلو کی علامات ان دنوں عالمی سطح پر ہنگامی صورت حال کا سبب بننے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کووِڈ انيس سے ملتی جلتی ہيں۔ سوائن فلو ميں مريض کو عموماً تيز بخار ہوتا ہے۔

Indien Schweinegrippe
تصویر: picture alliance/landov

دريں اثناء بھارتی چيف جسٹس نے اس مسئلے پر تبادلہ خيال کے ليے سپريم کورٹ بار ايسوسی ايشن کے صدر دشينت ديو سے بھی ملاقات کی ہے۔ دیو کے مطابق چيف جسٹس اس پيشرفت سے کافی پريشان ہيں اور حکومت نے سپريم کورٹ ميں ايک ڈسپنسری قائم کرنے کا اعلان کيا ہے، جہاں ويکسينیشن کی سہولت دستياب ہو گی۔ دیو نے مزيد بتايا کہ حال ہی ميں سپريم کورٹ ميں ايک جوڈيشل کانفرنس ميں شرکت کرنے والے غير ملکی وفد کے بعض ارکان بھی اس فلو کا شکار ہو چکے ہيں۔

ججوں کی اتنی بڑی تعداد ميں غير حاضری کے سبب امکان ہے کہ کئی کيسوں کی سماعت ملتوی کرنا پڑیں گی۔

ع س / ا ب ا، نيوز ايجنسياں