1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارتی عورت اکیسویں صدی میں بھی جبر کا شکار

Kishwar Mustafa13 جون 2012

ایک مشہور ہندی کہاوت ہے کہ لڑکی کی پیدائش لکشمی (دولت) کی آمد ہوتی ہے۔ تاہم بھارتی معاشرے میں عورتوں کے ساتھ جو امتیازی سلوک ہوتا ہے، وہ اس مفروضے کی نفی ہے۔

https://p.dw.com/p/15DE2
تصویر: Murali Krishnan

چار بازوؤں والی لکشمی دیوی ہندو اساطیر نامے کا ایک اہم کردار ہے۔ لکشمی دیوی کو دولت کی دیوی مانا جاتا ہے۔ ثروت مندی اور خوش بختی کی علامت لکشمی دیوی کا بُت اِنہی خصوصیات کی عکاسی کرتا ہے۔ مثلاﹰ لکشمی دیوی کے زیادہ تر بتوں کے ہاتھ میں کنول کا پھول اور سونا چھلکتا ہوا کاسہ نظر آتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارتی معاشرے میں عورت کو عزت و افتخار کا باعث سمجھا جاتا، ایک ایسے معاشرے میں جوعالمی سطح پر اثر و رسوخ اور خوشحالی میں آگے سے آگے بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے معاشرے میں، جہاں اس دیوی کو اتنا بلند مقام حاصل ہے، وہاں حقیقی معنوں میں خواتین کی صورتحال انتہائی افسوس ناک ہے۔ بھارت میں عورتوں کو امتیازی سلوک اور گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ان کے قتل کا رواج بھی عام ہے۔ اس بارے میں تھومسن رائٹرز فاؤنڈیشن کے ایک نئے سروے کے مطابق دنیا میں چوٹی کی 19 بڑی معیشتوں کے مقابلے میں بھارت میں خواتین کے ساتھ ہونے والا سلوک انتہائی افسوس ناک اور مایوس کن ہے۔

Indien kochen Frau
بھارت میں بہت سی عورتوں کا مقام باورچی خانے تک محدودتصویر: Fotolia/Eduardo Bombarelli

اس سروے میں دنیا کے 370 صنفی ماہرین کی رائے شامل کی گئی، ان سب نے متفقہ طور پر کہا کہ دنیا کی 20 بڑی معاشی طاقتوں G20 میں شامل ملک کینیڈا خواتین کے مقام کے حوالے سے سب سے اوپر ہے، تاہم اس میں یورپی یونین کے ممالک کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ خواتین کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں اور امتیازی سلوک کے حوالے سے بدترین ممالک کی فہرست میں سب سے اوپر بھارت ہے اور اُس کے بعد عرب مطلق العنان ریاست سعودی عرب کا نمبر آتا ہے۔

بھارت میں عورتوں کے خلاف ہونے والے جرائم کے کوائف اکھٹا کرنے اور انہیں ویب سائٹ Maps4aid.com پر شائع کرنے والے شمیر پدن یارے دل کہتے ہیں، ’بھارت میں عورت کا زندہ بچ جانا ایک معجزے سے کم نہیں۔ لڑکی کی زندگی کو ماں کے پیٹ میں ہی خطرات لاحق ہوتے ہیں۔ لڑکوں کی خواہش رکھنے والوں کو، جس وقت پتا چلتا ہے کہ لڑکی جنم لینے والی ہے، اُسی وقت اُسے اسقاط حمل کے ذریعے قتل کروا دیا جاتا ہے‘۔

Indien Hunger Armut
غربت و افلاس سے بھی سب سے زیادہ متائثر خواتین اور بجے ہوتے ہیںتصویر: AP

شمیر پدن یارے دل کا کہنا ہے کہ لڑکیوں کو بہت چھوٹی عمر ہی سے امتیازی سلوک، جنسی زیادتی اور کم عمری میں جبری شادی جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ شادی کے بعد عورتوں کو جہیز کی خاطر قتل کر دیا جاتا ہے۔ اگر وہ ان تمام زیادتیوں کے باوجود بچ جائے اور اُسے بیوگی کی زندگی گزارنا پڑے، تو اُسے نہ صرف امتیازی سلوک کا شکار بنایا جاتا ہے بلکہ اُسے تمام تر حقوق، خاص طور پر وراثت اور جائیداد سے محروم رکھا جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق امتیازی سلوک کا شکار سب سے زیادہ شمالی بھارت کی خواتین کو بنایا جاتا ہے، جہاں اکثریت کے اذہان پر اب بھی گھسے پٹے خیالات کا غلبہ ہے کہ’ عورت مرد کے مقابلے میں حقیر اور کم تر درجے کی حامل ہے‘۔ خواتین کو اکیسویں صدی میں بھی گھر اور بچوں کی دیکھ بھال تک محدود رکھا جاتا ہے۔

Km/ia (TrustLaw)