1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستجرمنی

بیلاروس کی اپوزیشن کے لیے یورپی ایوارڈ

22 اکتوبر 2020

یورپی پارلیمان کا رواں برس کا انسانی حقوق کا سخاروف ایوارڈ بیلا روس کی اپوزیشن تحریک نے جیت لیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر گزشتہ کئی ماہ سے جلاوطن ہیں۔

https://p.dw.com/p/3kIC2
Belarus Opposition Swetlana Tichanowskaja
تصویر: Sergei Grits/AP Photo/picture-alliance

بیلا روس کی جلاوطن اپوزیشن رہنما سویٹلانا تسیخانوسکایا کی قیادت میں گزشتہ کئی ماہ سے صدر الیگزانڈر لوکاشینکو کے خلاف بڑے عوامی مظاہرے جاری ہیں۔ لوکاشینکو کو براعظم یورپ کا 'آخری آمر‘ کہا جاتا ہے۔ اسی تناظر میں یورپی پارلیمان نے سخاروف انعام برائے انسانی حقوق بیلاروس کی اپوزیشن تحریک اور اس کی رہنما سویٹلانا تسیخانوسکایا کو دینے کا اعلان کیا ہے۔

یورپی یونین کے رہنما بیلاروس پر پابندی عائد کرنے پر رضامند

’یورپ کے آخری آمر‘ کی اپنا اقتدار بچانے کی کوششیں

یورپی پارلیمان کے صدر ڈیوڈ ساسولی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا، ''مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے نہایت فخر محسوس ہو رہا ہے کہ رواں برس کا سخاروف انعام بیلاروس کی جمہوری اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے مردوں اور خواتین کے نام ہو رہا ہے۔ ان کے پاس ایک ایسی شے ہے، جسے ظالمانہ قوت کبھی شکست نہیں دے سکتی۔ وہ ہے سچ۔ اپنی جدوجہد مت روکیے گا، ہم آپ کے ساتھ ہیں۔‘‘

بیلاروس میں رواں برس اگست میں متنازعہ صدارتی انتخابات میں ایک مرتبہ پھر صدر الیگزانڈر لوکاشینکو کی جانب سے کامیابی کے دعوے کے بعد ہزاروں افراد سڑکوں پر آگئے تھے۔ تب سے اب تک ہر ویک اینڈ پر لوگ صدر لوکاشینکو سے مستعفی ہونے اور ملک میں نئے انتخابات کے انعقاد کے نعرے کے ساتھ مظاہرے کرتے ہیں۔

یورپی یونین نے بھی لوکاشینکو کو ان انتخابات کے بعد صدر تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے کہ حالیہ انتخابات نہ تو آزاد تھے اور نہ شفاف۔ دوسری جانب لوکاشینکو نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ بیرونی قوتیں بیلاروس میں مداخلت کر رہی ہیں۔

یہ بات اہم ہے کہ بیلاروس میں ان مظاہروں میں شریک ہزاروں افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں اہم اپوزیشن رہنما اور صحافی بھی شامل ہیں۔ ساسولی کے مطابق، ''ہم بھی پریشان ہیں۔ ہم لوکاشینکو کی جانب سے لوگوں کو پرتشدد انداز سے دبانے کی وجہ سے پریشان ہیں۔‘‘

ساسولی نے مزید کہا کہ اب وقت ہے کہ لوکاشینکو لوگوں کی آواز سنیں ۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنما تسیخانوسکایا نے دھمکی دی ہے کہ اگر لوکاشینکو 25 اکتوبر تک اپنے عہدے سے مستعفی نہیں ہوتے تو وہ بیلاروس میں عام ہڑتال کی کال دے دیں گے۔ واضح رہے کہ تسیخانوسکایا اس وقت اپنے ملک سے فرار ہو کر لِتھوینیا میں مقیم ہیں۔

ع ت، ع ح (ڈی پی اے، اے ایف پی)