1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

جرمن داخلی انٹیلیجنس نے اے ایف ڈی کی خفیہ نگرانی شروع کر دی

26 جنوری 2021

جرمنی کی داخلی انٹیلیجنس سروس نے اسلام اور تارکین وطن کی مخالفت کرنے والی انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعت ’متبادل برائے جرمنی‘ یا اے ایف ڈی کی سیکسنی انہالٹ میں صوبائی شاخ کی خفیہ نگرانی کے فیصلے کی منظوری دے دی ہے۔

https://p.dw.com/p/3oQQM
جرمنی میں اے ایف ڈی کی سیاست کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہرے معمول کی بات ہیںتصویر: picture-alliance/dpa/G. Kirchner

جرمن اخبار 'مِٹل ڈوئچر سائٹنگ‘ نے بتایا ہے کہ جرمنی میں 'تحفظ آئین کا وفاقی دفتر‘ کہلانے والی داخلی سیکرٹ سروس کی طرف سے اس اقدام کی منظوری کے بعد اب 'الٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ‘ یا 'متبادل برائے جرمنی‘ نامی انتہائی دائیں بازو کی اس سیاسی جماعت کے مشرقی صوبے سیکسنی انہالٹ میں تقریباﹰ چودہ سو ارکان کے باہمی رابطوں اور ان کی طرف سے رقوم کی منتقلی پر درپردہ نگاہ رکھی جا سکے گی۔

تارکین وطن کورونا بحران کی وجہ نہیں بلکہ اس سے متاثر ہو رہے ہیں، میرکل

برانڈن بُرگ اور تھیورنگیا میں اے ایف ڈی پہلے ہی مشتبہ سیاسی گروپ

یہ فیصلہ اس جماعت کی سرگرمیوں سے متعلق کئی سال تک جمع کردہ شواہد کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جن کے مطابق اب یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ یہ جماعت دراصل ایک ایسا گروپ ہے، جو مشتبہ طور پر انتہائی دائیں بازو کی انتہا پسندی میں ملوث ہے۔

جرمنی کی داخلی انٹیلیجنس ایجنسی بی ایف وی کے حکام کے مطابق یہ سیاسی جماعت خاص طور پر صوبے سیکسنی انہالٹ میں انسانی وقار پر حملوں، قانون کی حکمرانی کو مسترد کرنے اور عمومی طور پر غیر جمہوری رویوں کی مرتکب ہوئی ہے۔

جرمنی ميں دائیں بازو کی سياسی قوتوں کے گرد گھيرا تنگ

Demonstration gegen Moscheeneubau
انتہائی دائیں بازو کی جرمن جماعت اے ایف ڈی شروع سے ہی ملک میں اسلام اور تارکین وطن کی مخالفت کرتی رہی ہےتصویر: picture-alliance/dpa/O. Berg

'متبادل برائے جرمنی‘ کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ ملک کے مشرق میں واقع وفاقی صوبوں برانڈن بُرگ اور تھیورنگیا میں اس پارٹی کی صوبائی شاخوں کو پہلے ہی 'مشتبہ‘ قرار دے کر ان کی نگرانی کی جا رہی ہے۔

جرمن ریاست "خطرناک علاقوں" کی فہرست شائع کرنے پر مجبور

نئے نازیوں سے رابطے

سیکسنی انہالٹ میں اے ایف ڈی کی خفیہ نگرانی شروع کرنے کا فیصلہ اس پارٹی کے لیے اس وجہ سے کوئی حیران کن پیش رفت نہیں ہے کہ اسی جماعت کے صوبائی پارلیمانی حزب کے ایک سرکردہ رکن پر پہلے ہی جرمن خفیہ اہلکار آنکھ رکھے ہوئے ہیں۔

اس کا سبب اس سیاستدان کا اس پارٹی کے انتہائی دائیں بازو کے ایک سابقہ دھڑے میں کردار بنا تھا۔ اس انتہا پسند دھڑے کے جرمنی میں نئے نازیوں کے ساتھ رابطے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں تھے۔

جرمنی میں ’کورونا مظاہرے‘، چانسلر میرکل پریشان

Augsburg - Alternative für Deutschland Logo mit Schattenriss von Frauke Petry
تصویر: Imago/reportandum

اے ایف ڈی کا رد عمل

'الٹرنیٹیو فار ڈوئچ لینڈ‘ نے سیکسنی انہالٹ میں گزشتہ علاقائی پارلیمانی الیکشن میں چوبیس فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔ اس طرح اس جماعت کو مقامی سطح پر کافی زیادہ عوامی تائید حاصل ہے۔ یہ پارٹی صوبائی سطح پر اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت بھی ہے۔

ایسا بھی ہوتا ہے: ایک دن کے کام کی تنخواہ ترانوے ہزار یورو

سیکسنی انہالٹ میں اس پارٹی کے سربراہ اور صوبائی پارلیمنٹ میں اس کے حزب کے لیڈر نے اخبار 'مِٹل ڈوئچر سائٹنگ‘ کو بتایا کہ ریاستی حکومت ان کی جماعت کی صوبائی شاخ کی قانونی نگرانی شروع کر کے دراصل اس پارٹی کو کمزور کرنا چاہتی ہے اور ایسا کرتے ہوئے وہ ملک کی داخلی سیکرٹ سروس کا مبینہ طور پر غلط استعمال بھی کر رہی ہے۔

اسلام مخالف جرمن سیاسی جماعت اے ایف ڈی کو جرمانے کا سامنا

اے ایف ڈی کی قومی سطح پر نگرانی بھی زیر غور

جرمنی کی داخلی سیکرٹ سروس اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ انتہائی دائیں باز وکی اس سیاسی جماعت کی ملک گیر سطح پر بھی نگرانی شروع کر دی جائے۔ اے ایف ڈی اپنے سیاسی موقف میں شروع سے ہی ملک میں اسلام اور تارکین وطن کی مخالفت کرتی رہی ہے۔

پندرہ سال سے حکمران میرکل نے اب تک کیا کھویا، کیا پایا

رواں سال جرمنی میں قومی انتخابات بھی ہونا ہیں۔ ایسے میں اگر  اے ایف ڈی کی ملک گیر سطح پر خفیہ لیکن ملکی آئین کے مطابق نگرانی شروع کر دی گئی، تو سیاسی طور پر یہ عمل اس جماعت کی ساکھ کے لیے بہت بڑا دھچکا ہو گا۔

اس تناظر میں یہ بات بھی اہم ہے کہ 'متبادل برائے جرمنی‘ کے خلاف وفاقی سطح پر دو سال تک جو چھان بین کی گئی ہے، اس کے نتائج بھی ممکنہ طور پر عنقریب ہی شائع کر دیے جائیں گے، جو اس جماعت کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں۔

جرمن شہر ڈریسڈن میں ’نازی ایمرجنسی‘ کا اعلان

وفاقی پارلیمان میں دوسری سب سے بڑی سیاسی جماعت

جرمنی میں گزشتہ عام الیکشن کے دوران اے ایف ڈی کو وفاقی پارلیمان میں چورانوے نشستیں حاصل ہوئی تھیں۔ اس طرح یہ پارٹی بنڈس ٹاگ کہلانے والی جرمن پارلیمان میں دوسری سب سے بڑی جماعت ہے۔ کورونا وائرس کی عالمی وبا کے دوران اس کو حاصل عوامی تائید میں کچھ کمی ہوئی ہے تاہم یہ اپنے لیے ووٹروں کی حمایت برقرار رکھنے کی کوششوں میں بھی ہے۔

اے ایف ڈی کے ساتھ تعاون درست نہیں، جرمن عوام کی رائے

اے ایف ڈی کاماضی میں اس جماعت کی صفوں میں بننے والا انتہائی دائیں بازو کا دھڑا اگرچہ اب تحلیل کیا جا چکا ہے، تاہم اس 'فار رائٹ ونگ‘ کے سابقہ ارکان کی آج بھی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس سابقہ دھڑے سے وابستہ افراد آج بھی اس جماعت کی داخلی سیاست میں اچھے خاصے اثر و  رسوخ کے حامل ہیں۔

م م /  ع ا (اے ایف پی، ڈی پی اے)