1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
معاشرہجرمنی

جرمنی میں پناہ کی تلاش، روسی شہریوں کی تعداد میں واضح اضافہ

23 اپریل 2023

جرمنی میں پناہ کی درخواستیں دینے والے روسی شہریوں کی تعداد میں حالیہ مہینوں میں واضح اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جرمنی میں پناہ کے متلاشی روسی باشندوں کی تعداد میں سال رواں کی پہلی سہ ماہی میں بے تحاشا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

https://p.dw.com/p/4QJ84
Russian draft evaders seeking asylum fear being sent back from Germany
تصویر: DW

جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق وفاقی جرمن دفتر برائے مہاجرین اور ترک وطن (بی اے ایم ایف) کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پورے سال میں مختلف جرمن شہروں میں پناہ کی درخواستیں دینے والے روسی مردوں اور خواتین کی مجموعی تعداد 2851 رہی تھی۔

’روس کے کرائے کے فوجیوں کا واگنر گروپ، اٹلی کی طرف مہاجرین کے بہاؤ میں اضافے کا سبب‘

اس کے برعکس اس سال کی صرف پہلی سہ ماہی میں ہی یہ تعداد بہت زیادہ اضافے کے ساتھ 2381 ہو چکی تھی۔ یہ بات مہاجرین اور ترک وطن سے متعلق اسپیشل انفارمیشن سروس ٹیبل میڈیا (Table.Media) کی طرف سے بی اے ایم ایف کے 2023ء کے پہلے تین ماہ کے ڈیٹا کا حوالہ دیتے ہوئے بتائی گئی۔

تقریباﹰ دو تہائی تعداد مردوں کی

ٹیبل میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق 2022ء کے دوران جن روسی باشندوں نے جرمنی میں پناہ کی درخواستیں دی تھیں، ان میں مردوں کا تناسب 59 بنتا تھا۔ اس کے برعکس اس سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران ایسے روسی باشندوں میں مردوں کے تناسب بڑھ کر 64 فیصد ہو گیا۔

Russische Deserteure und Asyl in Spanien
اسپین میں بھی ملٹری سروس یا لازمی فوجی بھرتی سے فرار ہو کر آنے والے کئی روسی شہری پناہ کی درخواستیں دے چکے ہیںتصویر: Victor Tschezkij/DW

مہاجرین کا بوجھ، جرمن شہروں میں گنجائش خاتمےکے دہانے پر

اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سال یکم جنوری سے لے کر اکتیس مارچ تک روس کے جن شہریوں نے یورپی یونین کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک جرمنی میں پناہ کی درخواستیں دیں، ان میں مردوں کی شرح تقریباﹰ دو تہائی بنتی تھی۔

ماہرین کا اندازہ ہے کہ جرمنی میں پناہ کے خواہش مند روسی باشندوں کی تعداد میں اس بہت زیادہ اضافے کی وجہ روس کے یوکرین پر فوجی حملے کے بعد سے اب تک جاری جنگ ہے۔

جرمنی میں رجسٹرڈ بے وطن انسانوں کی تعداد نو سال میں دو گنا

اس لیے کہ جرمنی میں پناہ کے متلاشی روسی شہریوں کی تعداد میں روسی یوکرینی جنگ سے پہلے کے عرصے کے مقابلے میں گزشتہ برس فروری کے اواخر میں اس جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک بہت زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔

جرمنی آنے والے یوکرینی مہاجرین کی حد مقرر نہیں کی جائے گی، جرمن وزیر

امریکی خفیہ دستاویزات لیک، معاملہ کیا ہے؟

جنگی فرائض کی انجام دہی سے انکار کرنے والے روسی فوجی

وفاقی جرمن دفتر برائے مہاجرین اور ترک وطن کی ایک خاتون ترجمان کے مطابق جرمنی میں ایسی روسی فوجی بھی پناہ کی درخواستیں دے سکتے ہیں، جن کا تعلق روسی مسلح دستوں سے تھا مگر جو ماسکو حکومت کی خواہشات کے مطابق اپنے فرائض کی انجام دہی کے بجائے روس سے اس لیے فرار ہو چکے ہیں کہ انہیں یوکرینی جنگ میں حصہ نہ لینا پڑے۔

جرمنی سے پناہ کے ناکام متلاشی افراد کو ملک بدر کرنے کی دو تہائی کوششیں ناکام

بی اے ایم ایف (بامف) کی ترجمان نے بتایا کہ ایسے فوجیوں کو بین الاقوامی سطح ہر عموماﹰ تحفظ فراہم کیا جاتا ہے اور ان کی پناہ کی درخواستیں منظور ہو جاتی ہیں۔

تاہم ترجمان نے یہ بھی کہا کہ فی الحال یہ تعین نہیں کیا جا سکا کہ جرمنی میں پناہ کی درخواستیں دینے والے روسی باشندوں میں فوجی خدمات کی انجام دہی سے عملی انکار کرتے ہوئے فرار ہو کر آنے والے روسی شہریوں کی تعداد کتنی ہے۔

م م / ع ا (اے ایف پی، ڈی پی اے)

جرمنی کن لوگوں کو ملک بدر کرتا ہے؟