1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

’جنسی، مالیاتی جرائم‘: اس سال نوبل ادب انعام نہیں دیا جائےگا

30 ستمبر 2018

سویڈش اکیڈمی کو درپیش جنسی اور مالیاتی جرائم کے اسکینڈل کے باعث اس سال ادب کا نوبل انعام نہیں دیا جائے گا۔ اس اکیڈمی کی ایک قریبی شخصیت کو مالیاتی جرائم کے علاوہ ایک خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزامات کا سامنا بھی ہے۔

https://p.dw.com/p/35jCT
تصویر: picture-alliance/dpa

ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن سے اتوار تیس ستمبر کو موصولہ نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق ہر سال ادب کے نوبل انعام کی حقدار ادبی شخصیت کا انتخاب کرنے والی سویڈش اکیڈمی کو ابھی تک ایک ایسے بڑے اسکینڈل کا سامنا ہے، جو اس کی ساکھ کے لیے بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔

اس جنسی اسکینڈل کا مرکزی کردار ژاں کلود آرنو نامی ایک ایسے فرانسیسی شہری ہیں، جو سویڈن میں ایک انتہائی اہم ثقافتی شخصیت تصور کیے جاتے ہیں۔ آرنو ہی کی وجہ سے اس اکیڈمی کی ساکھ نہ صرف بری طرح متاثر ہوئی بلکہ وہ اپنی معمول کی کارکردگی میں ایک سال کے وقفے کا اعلان کرنے پر بھی مجبور ہو گئی تھی۔

اس وقت 72 سالہ ژاں کلود آرنو کے خلاف سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہولم کی ایک عدالت میں مقدمے کی سماعت ابھی جاری ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ متعدد مالیاتی بے قاعدگیوں کے علاوہ سات برس قبل ایک خاتون کے دو مرتبہ مبینہ ریپ کے مرتکب بھی ہوئے تھے۔ آرنو اپنے خلاف ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

Jean-Claude Arnault und Ehefrau  Katarina Frostenson
ژاں کلود آرنو اور ان کی اہلیہ کاتارینا فروسٹَینسن کی دو ہزار ایک میں لی گئی ایک تصویرتصویر: picture-alliance/AP Photo/J. Ekstromer

ژاں کلود آرنو کے خلاف مقدمے کا فیصلہ کل پیر یکم اکتوبر کو متوقع ہے اور یہ وہی دن ہے جب کارولِنسکا انسٹیٹیوٹ کی طرف سے اس سال کے لیے نوبل انعامات کی حقدار شخصیات کے ناموں کے اعلان کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ یکم اکتوبر کو کیا جانے والا پہلا اعلان طب کے امسالہ نوبل انعام کی حقدار شخصیت یا شخصیات سے متعلق ہو گا۔

دوسری طرف سویڈش دفتر استغاثہ نے آرنو کے خلاف عائد کردہ الزامات کے باعث ان کے لیے تین سال کی سزائے قید کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ ژاں کلود آرنو کے خلاف مقدمے میں عدالت جو بھی فیصلہ سنائے، سویڈش اکیڈمی کے لیے اس امر کی کوئی ضمانت نہیں کہ اسے مستقبل میں بھی ہر سال ادب کے نوبل انعام کے حقداروں کا انتخاب کرنے کی اجازت دے دی جائے گی۔

اس سلسلے میں نوبل فاؤنڈیشن کے سربراہ لارس ہائکَینسٹن نے جمعہ اٹھائیس ستمبر کو ہی کہہ دیا تھا کہ اگر سویڈش اکیڈمی اپنی ساکھ کے بحران سے باہر نکلتے ہوئے اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکالتی، تو بہتر ہو گا کہ ادب کے نوبل انعام کے حقدار کے انتخاب کی ذمے داری کسی دوسرے ادارے کے سپرد کر دی جائے۔

نوبل فاؤنڈیشن کے سربراہ نے تو یہ بھی کہہ دیا تھا کہ ممکن ہے کہ اگلے برس یعنی 2019ء میں بھی ادب کے نوبل انعام کا کوئی اعلان نہ کیا جائے۔

یہ امکان سویڈش اکیڈمی کے اب تک کے ان ارادوں کے بالکل برعکس ہے، جن کے مطابق اکیڈمی کا منصوبہ تھا کہ وہ اگلے برس بیک وقت ادب کے دو نوبل انعامات کا اعلان کر دے گی۔ ایک 2018ء کے لیے اور دوسرا 2019ء کے لیے۔

ژاں کلود آرنو سویڈن میں ایک ایسے بڑے ثقافتی گروپ کے سربراہ ہیں، جس کے سویڈش اکیڈمی کے ساتھ قریبی روابط ہیں۔ ان کے خلاف چھان بین اور سویڈش اکیڈمی کو درپیش بہت بڑے اسکینڈل کا آغاز اس وقت ہوا تھا، جب گزشتہ برس نومبر میں بیک وقت 18 خواتین نے ایک سویڈش اخبار میں آرنو پر یہ الزامات عائد کیے تھے کہ یہ فرانسیسی شہری ان خواتین کے جنسی استحصال کے مرتکب ہوئے تھے۔

ژاں کلود آرنو سویڈش اکیڈمی کی ایک (اب سابقہ) خاتون رکن اور شاعرہ کاتارینا فروسٹَینسن کے شوہر بھی ہیں۔ کاتارینا فروسٹَینسن نے اسی سال اپنے شوہر کی ذات سے متعلق اسکینڈل کے بہت شدت اختیار کر جانے کے بعد اپریل میں سویڈش اکیڈمی کی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

فروسٹَینسن کے استعفے سے قبل اپریل ہی میں اکیڈمی نے اپنی صفوں میں ’غلط جنسی رویوں‘ کے الزامات کی داخلی چھان بین کے بعد یہ اعتراف بھی کر لیا تھا کہ اس باوقار ادارے میں ’ناپسندیدہ جسمانی قربت کی شکل میں ناقابل قبول رویہ‘ دیکھنے میں آیا تھا۔

م م / ع س / اے پی

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں