1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عورت مارچ: ’سوشل میڈیا نے آسمان سر پر اٹھا لیا‘

عاطف توقیر
13 مارچ 2019

آٹھ مارچ کو پاکستان کے کئی علاقوں میں مختلف طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی خواتین نے ’عورت مارچ‘ میں حصہ لیا۔ مگر اس مارچ میں بعض پلے کارڈز سوشل میڈیا پر پاکستانی معاشرے میں موجود تقسیم کی وضاحت بھی کر گئے۔

https://p.dw.com/p/3EvzW
Demonstration für Frauenrechte in Pakistan 2007 Frauentag
تصویر: AP

اکبر اور عاصمہ اسکول سے گھر ایک ساتھ پہنچے۔ اکبر نے گھر میں داخل ہوتے ہی، بھوک کی شدت سے بلبلاتے کہا، ’’اماں کھانا دیں۔‘‘ اماں کسی اور جانب مصروف تھیں، عاصمہ کو آواز  دے کر کہنے لگیں، ’’بھائی کو کھانا دے۔‘‘

یہ منظر ہمارے معاشرے کا ایک عمومی منظر ہے۔

 پاکستان بھر میں ’’عورت مارچ‘‘ کے موقع پر مختلف طرز کے پلے کارڈز اٹھائے گئے تھے۔ جن میں مختلف خواتین نے خود کو درپیش مختلف طرز کے مسائل کا ذکر کیا تھا، تاہم حیران کن بات یہ ہوئی کہ ان تمام پلے کارڈز کے حوالے سے سوشل میڈیا حتیٰ کہ روایتی میڈیا پر بھی فقط ان جملوں کو جگہ مل پائی، جن پر سماجی، روایتی یا مذہبی بنیادوں پر تنقید ممکن تھی۔ اس مارچ میں ’خواتین کے مساوی حقوق‘، ’جنسی ہراسانی کا خاتمہ‘، جائیداد میں حصہ، قانونی تحفظ، غیرت کے نام پر قتل، کاروکاری، ونی اور دیگر فرسودہ  رسوم کے خاتمے اور بہت سے امور پر خواتین اپنی بات کر رہی تھیں، تاہم یہ تمام نعرے، تمام جملے، تمام تقاریر یک سر منظرنامے سے غائب دکھائی دیں۔

تاہم وہ جملے اور وہ نعرے جن کو سطحی انداز سے دیکھنا یا پھبتیاں کسنا آسان تھا، سوشل میڈیا پر موضوع گفت گو رہے اور ان جملوں کے تجزیے کر کے عورت مارچ پر جملے کسے جاتے رہے اور حیران کن بات یہ ہے کہ جملے کسنے والوں میں بعض خواتین بھی شامل رہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ انہیں متنازعہ جملوں کی بنا پر خواتین کو درپیش مسائل پر سماجی سطح پر ایک بحث کا آغاز ضرور ہوا اور یہ عورت مارچ، جسے ہمیشہ ایک ’تفریحی ایونٹ‘ قرار دے کر نظرانداز کر دیا جاتا تھا، اس بار آٹھ مارچ گزر جانے کے بعد بھی زیر بحث ہے۔

تاہم سوال یہ ہے کہ وہ کون سے جملے تھے اور کیا ان پر کیے جانے والے اعتراضات درست ہیں؟ آئیے پہلے ان ’متنازعہ جملوں‘ کا جائزہ لیتے ہیں۔

ایک پلے کارڈ پر ایک لڑکی کا خاکہ بنا ہوا تھا، جو سکڑ کر بیٹھنے کی بجائے، ٹانگیں کھولےبیٹھی تھی اور لکھا تھا، ’’لو بیٹھ گئی صحیح سے۔‘‘

ایک پلے کارڈ پر لکھا تھا، ’’گھٹیا مرد سے آزادی، سر درد سے آزادی‘‘۔ اسی طرح ایک اور پلے کارڈ کہہ رہا تھا، ’’طلاق یافتہ اور خوش۔‘‘

چند نہایت عمومی سے سوالات ہیں، ’’میرا موزہ کہاں ہے‘‘ کا جملہ آپ نے کتنی بار خواتین سے سنا ہے؟ ٹانگیں سکیڑ کر بیٹھو آپ نے کتنی بار لڑکوں کو کہے جاتے دیکھا ہے؟ کھانا دو، کتنی بار کسی خاتون نے گھر کے کسی مرد کو کہا ہے؟

Atif Tauqeer
تصویر: DW/A. Tauqeer

یہاں بہت سے معترض دوست یہ دلیل ڈھونڈ لائیں گے کہ چوں کہ مرد ملازمت کرتے ہیں اور تھکن سے چور گھر لوٹتے ہیں اور چوں کہ خواتین کام نہیں کرتیں اس لیے یہ انہیں کہا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ ایسی بچیاں جو اسکول، کالج یا جامعات جاتی ہیں، یا ایسی خواتین جو کسی مرد کی طرح ملازمت کرتیں ہیں، کیا انہیں بھی یہی کچھ سننے کو نہیں ملتا؟ کیا ہمارے معاشرے میں ایسے گھروں میں لڑکوں کو کہا جاتا ہے کہ وہ کھانا خود نکال لیں؟ یا ملازمت کر کے گھر پہنچنے پر شوہر خاتون کو کھانا پکا کر کھلاتے ہیں؟

اس پورے مارچ میں خواتین کو درپیش اہم اور سنجیدہ مسائل پر کی جانے والی بات کو چھوڑ کر چند کارڈز پر عمومی ردعمل یہ تھا کہ یہ پاکستانی معاشرے کے ’تقدس‘ اور ’معاشرتی روایات‘ کے منافی جملے ہیں۔ تاہم یہاں یہ اہم بات یک سر غائب ہو گئی کہ پاکستانی معاشرے میں کسی بچی کو اسکول یا کالج جاتے یا کسی خاتون کو دفتر کا رخ کرتے کس انداز کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے؟ یا گھریلو سطح پر ایک لڑکے کو دی جانے والی رعایتیں کیا کسی لڑکی کو بھی دستیاب ہوتی ہیں؟

فرض کرتے ہیں کہ یہ پلے کارڈز کسی مرد نے اٹھا رکھے ہیں۔ ایک پلے کارڈ جس میں ایک لڑکی ٹانگیں کھولے بیٹھی ہے، وہاں کوئی لڑکا بیٹھا ہو اور جملہ ہو، ’’لو بیٹھ گیا صحیح سے‘‘ یا کوئی مرد کر رہا ہو، ’’طلاق یافتہ اور خوش۔‘‘

سوال یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں بھی شور و غل ایسا ہی ہوتا؟ کیا یہ سوال معاشرتی سطح پر پوچھے جانے والا نہیں کہ جنسی طرز کے لطیفے اور خواتین کو موضوع بنا کر جملے بازی یا بے ہودہ گالیوں میں خواتین کو نشانہ بنانا، کیا عام معاشرتی روش نہیں؟ کیا یہ سوال پوچھا نہیں جانا چاہیے کہ وہ جملے بازی جو مردوں کی بیٹھکوں میں قریب ہر وقت جاری ہوتی ہے اور صدیوں سے جاری ہے، اگر اس جیسی بلکہ اس سے کہیں کم نوعیت کی تندی کوئی خاتون کرتی نظر آئے تو ایسا شور کیوں؟

اس مارچ پر معترض لوگوں کا اصل معاملہ ان جملوں سے بھی زیادہ یہ ہے کہ ان کے اذہان میں ایک خاتون کا تصور کسی ’تابع دار اور فرماں بردار‘ مخلوق سے زیادہ دکھائی نہیں دیتا اور اس کے منہ سے اپنے جیسا کوئی جملہ سن کر یہ شور و غل اصل میں وہ حیرت ہے کہ یہ ممکن کیسے ہو گیا۔

سوال فقط یہ ہے کہ اعتراض ہمیں ان پلے کارڈز پر ہے یا خواتین کے ہاتھوں میں ان پلے کارڈز پر؟ اس سوال کا جواب وسعتِ نظری سے ڈھونڈا جائے، تو خواتین کو لاحق بے حد سنجیدہ مسائل حل کی طرف جا سکتے ہیں۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اُردو کے کسی بھی بلاگ میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔