1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
قانون کی بالادستییورپ

شامی مہاجر نے جرمن خاتون پولیس اہلکار کو ریپ ہونے سے بچا لیا

شمشیر حیدر سوشل میڈیا
9 اگست 2020

جرمن شہر ووپرٹال میں شام سے تعلق رکھنے والے ایک مہاجر نے ایک خاتون پولیس اہلکار کو ریپ ہونے سے بچا لیا۔ مبینہ ملزم افغانستان سے تعلق رکھنے والا پناہ گزین تھا۔

https://p.dw.com/p/3ggq5
Polizistin
تصویر: picture-alliance/dpa

گزشتہ ماہ عدالت نے ایک جرمن لڑکی کا گینگ ریپ کرنے والے عرب مہاجروں کو سزا سنائی، جس کے بعد جرمنی میں سوشل میڈیا پر پناہ گزینوں کے خلاف بالعموم اور عرب مہاجرین کے خلاف بالخصوص تنقید کی گئی۔

لیکن اب سوشل میڈیا پر ایک شامی مہاجر کو ایک 28 سالہ خاتون پولیس اہلکار کو ریپ سے بچانے پر 'ہیرو‘ قرار دیا جا رہا ہے۔

30 سالہ فنر کا تعلق شمالی شام کے شہر القامشلی سے ہے اور وہ پانچ برس قبل اپنے اہل خانہ کے ساتھ ہجرت کر کے جرمنی آیا تھا۔ فنر گاڑیوں کا مکینک ہے اور اب ووپرٹال میں اپنی بیوی اور بیٹی کے ساتھ رہائش پذیر ہے۔

یہ بھی پڑھیے: جرمنی سے افغان مہاجرین کی ملک بدری روکنے کا مطالبہ

کثیرالاشاعتی جرمن اخبار 'بلڈ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے فنر نے بتایا، ''میں صبح ساڑھے تین بجے کے قریب اپنے دوست کو اس کے گھر چھوڑ کر واپس اپنے گھر لوٹ رہا تھا۔ اس دوران میں ایک سنسان سڑک پر ایک خاتون کے پیچھے سرخ شرٹ میں ملبوس ایک شخص کو چلتے ہوئے دیکھا۔ پھر اچانک دونوں غائب ہو گئے۔‘‘

فنر کو کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا تو اس نے سوچا کہ دیکھ لیا جائے کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ گاڑی روک کر وہ اس جگہ پہنچا تو اس نے دیکھا کہ جھاڑیوں کے پیچھے بینچ پر ایک شخص عورت کی چھاتی پر بیٹھا ہوا تھا۔

فنر نے بتایا، ''اس نے ایک ہاتھ سے خاتون کا منہ دبا کر بند کر رکھا تھا، خاتون مزاحمت کر رہی تھی لیکن وہ حملہ آور کے سامنے بے بس دکھائی دے رہی تھی۔‘‘

فنر نے اسے آن دبوچا لیکن حملہ آور اس کی گرفت سے نکل کر فرار ہو گیا۔ فنر نے اس کی پیچھا کیا۔ دوسری گلی میں موجود ایک ترک نژاد جرمن شہری بھی فنر کی آواز سن کر مدد کو آ گیا اور دونوں نے ملزم کو پکڑ لیا۔

یہ بھی پڑھیے: جرمنی: پناہ کے امکانات کا انحصار درخواست دیے جانے کی جگہ پر

بعد ازاں پولیس بھی موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس کے مطابق حملہ آور بھی ایک پناہ گزین ہے۔ اس کا نام ظاہر نہیں کیا گیا تاہم پولیس کے مطابق وہ افغان شہری ہے۔

شامی مہاجر فنر کے مطابق، ''اس وقت میرے ذہن میں صرف یہ آیا کہ ایسے برے شخص کو نہیں چھوڑنا چاہیے، تاکہ میری بیٹی کے ساتھ کوئی ایسا واقعہ پیش نہ آئے۔‘‘

ڈوئچے ویلے جرمنی کا بین الاقوامی نشریاتی ادارہ، 30 زبانوں میں غیر جانبدارانہ رپورٹنگ کرتا ہے۔ ہمیں فالو کیجیے:
 Facebook  | Twitter  | YouTube