1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

عمران خان نے گوہر خان کو عبوری پارٹی سربراہ نامزد کر دیا

29 نومبر 2023

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور اس وقت جیل میں قید سیاست دان عمران خان نے آئندہ پارٹی الیکشن کے لیے اپنے وکلاء میں سے ایک، گوہر خان کو اپنی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا نیا عبوری سربراہ نامزد کر دیا ہے۔

https://p.dw.com/p/4ZaAS
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان
پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خانتصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد سے بدھ انتیس نومبر کو موصولہ رپورٹوں کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے بتایا گیا کہ پارٹی لیڈر عمران خان نے اپنے وکلاء میں سے ایک، بیرسٹر گوہر خان کو اس لیے نامزد کیا ہے کہ وہ پارٹی الیکشن میں جماعت کے سربراہ کے عہدے کے لیے امیدوار بن سکیں۔

پی ٹی آئی کا مصالحانہ رویہ: صلح صفائی یا این آر او؟

پی ٹی آئی کی طرف سے آج جاری کردہ ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بیرسٹر گوہر خان اپنی نامزدگی کا اعلان کرتے ہوئے بتا رہے ہیں کہ عمران خان نے انہیں کہا ہے کہ وہ عبوری پارٹی سربراہ کے انتخاب کے عمل میں حصہ لیں۔

اس ویڈیو میں بیرسٹر گوہر خان کو یہ کہتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، ''عمران خان کی جگہ میں کھڑا ہوں گا۔‘‘ ساتھ ہی گوہر خان نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان ہی تھے اور وہی ہمیشہ پارٹی سربراہ رہیں گے۔

جسٹس اطہر من اللہ کا اضافی نوٹ: تنقید بھی، تعریف بھی

عمران خان کے عبوری جانشین کے طور پر پارٹی قیادت کے لیے نامزد کردہ بیرسٹر گوہر خان (بائیں طرف)
عمران خان کے عبوری جانشین کے طور پر پارٹی قیادت کے لیے نامزد کردہ بیرسٹر گوہر خان (بائیں طرف)تصویر: Anjum Naveed/AP/picture alliance

نامزدگی کی وجہ کیا؟

پاکستان تحریک انصاف کو آئندہ ہفتے کے روز ہونے والے داخلی انتخابی عمل سے پہلے اس نامزدگی کی ضرورت اس لیے پڑی کہ اس الیکشن میں نئے پارٹی چیئرمین اور دیگر عہدیداروں کا انتخاب کیا جائے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ موجودہ چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے جیل میں ہیں اور پارٹی الیکشن میں حصہ نہیں لے سکتے۔

الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سوالات

پی ٹی آئی کو اپنی صفوں میں پارٹی الیکشن کروانے کی ہدایت پاکستان الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے کی تھی، جس نے اس جماعت کو اس عمل کے لیے 20 دن کی مہلت دی تھی۔ ملکی انتخابی قوانین کی رو سے یہ پارٹی الیکشن اس لیے بھی ضروری ہیں کہ ایسے کسی داخلی انتخابی عمل کے بعد ہی عمران خان کی سیاسی جماعت کو کرکٹ کے بلے کا وہی انتخابی نشان استعمال کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے، جو اس نے گزشتہ الیکشن میں بھی استعمال کیا تھا۔

ماضی کے اتحادیوں میں بڑھتی ہوئی خلیج

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف
پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریفتصویر: Ali Kaifee/DW

عبوری اقدام

بیرسٹر  گوہر خان کو پارٹی کا عبوری سربراہ بنانے کے لیے ان کی نامزدگی کے حوالے سے عمران خان کے ایک اور وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ عمران خان کے بجائے گوہر خان کو پارٹی سربراہ بنانا محض 'بےبی سٹنگ انتظام‘ کے طور پر کیا جا رہا ہے۔

پاکستان: سائفر کیس میں عمران اور محمود قریشی پر فرد جرم عائد

عمران خان کو پاکستان کی ایک عدالت نے اس سال اگست میں بدعنوانی کے جرم میں تین سال قید کی سزا سنا دی تھی۔

پاکستان میں اگلے قومی الیکشن اب تک کے پروگرام کے مطابق اگلے سال آٹھ فروری کو کرائے جائیں گے، جن میں عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف کا متوقع طور پر زیادہ تر مقابلہ سب سے بڑی حریف جماعت اور سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پارٹی پاکستان مسلم لیگ ن سے ہو گا۔

م م / ع ا (روئٹرز)

عمران خان گرفتار، عوام سے احتجاج کی اپيل