1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

غزہ کی سرحدی گزر گاہيں کھول دی گئیں

21 اکتوبر 2018

اسرائیل کی جانب سے آج بروز اتوار غزہ پٹی کی سرحدی گزر گاہوں کو مقامی افراد اور سامان کی آمد و رفت کے لیے ایک مرتبہ پھر کھول دیا گيا ہے۔

https://p.dw.com/p/36tpB
Israel Raketenabwehrsystem Iron Dome
تصویر: picture-alliance/Photoshot

اسرائیلی وزیر دفاع  ايوگڈور  لیبرمان کے ایک بیان کے مطابق غزہ کی دونوں سرحدی گزر گاہوں کو ایک مرتبہ کھولنے کا فیصلہ پرتشدد کارروائیوں میں کمی کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ چار روز قبل ان بارڈر کراسنگز کو بند کرنے کے احکامات فلسطینی علاقے سے ایک راکٹ حملے کے نتیجے میں جاری کيے گئے تھے۔ اس تناظر میں اسرائيل کی جانب سے رد عمل ميں غزہ پٹی میں حماس کے بیس ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

دوسری طرف حماس نے جنوبی اسرائیل میں ہونے والے راکٹ حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سلسلے ميں تفتیش جاری ہے۔

اسرائیل نے غزہ پٹی کی واحد سرحدی گزر گاہ بند کر دی

Gazastreifen Proteste & Ausschreitungen
تصویر: Reuters/I.A. Mustafa

رواں برس تیس مارچ سے فلسطینی زیر انتظام علاقے غزہ کی سرحد پر روزانہ کی بنیاد پر اسرائیلی فورسز کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ گزشتہ جمعے کے روز ہزاروں مظاہرین غزہ کے شمالی حصے ميں جمع ہوئے لیکن ان مظاہرین کو سرحد سے تقریباﹰ ایک سو میٹر کے فاصلے پر ہی روک دیا گیا۔

امريکا نے فلسطينيوں کی مدد کرنے والے ادارے کی فنڈنگ روک دی

قبل ازیں اسرائیل کی جانب سے فلسطین جانے والے تیل کے ٹرکوں کو بھی روک  دیا گیا تھا۔ اقوام متحدہ کے ايک معاہدے کے تحت غزہ میں قائم پاور پلانٹ کے لیے روزانہ کی بنیادوں پر یہ ٹرک تیل پہنچاتے ہیں۔ اس حوالے سے اسرائیلی وزیر دفاع نے بیان میں کہا کہ قطر سے تیل کی رسائی فی الوقت معطل کی گئی ہے اور آئندہ چند دنوں میں اس کی بحالی پر فیصلہ کیا جائے گا۔

ع آ / ع س (اے ایف پی)