1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

''مذاکرات سے پہلے اعتماد کی بحالی ضروری ہے‘‘

27 جون 2020

پشتون تحفظ موومنٹ کے سربراہ منظور پشتین نے کہا کہ جہاں اعتماد کا فقدان ہوتا ہے، وہاں بات چیت سے پہلے ماحول سازگار بنانے کے لیے عملی اقدامات ضروری ہوتے ہیں۔

https://p.dw.com/p/3eQgG
تصویر: Getty Images/AFP/A. Qureshi

ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ریاستِ پاکستان لوگوں کو تحفظ دینے اور انہیں ان کے بنیادی حقوق دینے میں ناکام  رہی ہے، اس لیے جہاں زیادتی ہو گی، وہاں احتجاج بھی ہو گا۔ انہوں نے کہا حکومت کو چاہیے کہ پی ٹی ایم کے ساتھ زیادتیوں کا ازالہ کرے اور ان کے کارکنوں پر قائم جھوٹے مقدمات واپس لے۔ 

پی ٹی آئی حکومت کے وزیر دفاع پرویز خٹک نے دو ہفتے پہلے ہی ایک بیان میں پی ٹی ایم کی قیادت کو بات چیت کی دعوت دی تھی۔

اسلام آباد میں جمعے کو پی ٹی ایم رہنماؤں کی پریس کانفرنس کے دوران رکن قومی اسمبلی محسن داوڑ نے کہا، ''ہم پرامن جلسے کرتے ہیں تو ہمارے خلاف دہشت گری کے مقدمات بنائے جاتے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ اسامہ بن لادن کو شہید قرار دینے والے بتائیں ان کی ترجیحات کیا ہیں؟

پاکستانی میڈیا میں پی ٹی ایم کے جلسے اور پریس کانفرنسیں دکھانے پر غیر اعلانیہ پابندی ہے۔ اس پریس کانفرنس میں بھی صحافیوں کی بڑی تعداد موجود تھی تاہم ملک کے بیشتر چینلوں اور اخبارات میں اسے رپورٹ نہیں کیا گیا۔

پاکستانی کے وزیر دفاع پرویزخٹک نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ سابق قبائیلی علاقوں کی ترقی کے لیے سیاسی محاذ آرائی کی بجائے صوبے کی ترقی کے لیے مل کر کام کیا جائے۔ پرویز خٹک کا مزیدکہنا تھا، ''ہم خیبرپختونخوا سے ہیں اور ہمیں اجتماعی طور پر کام کرنا چاہیے، اس لیے پی ٹی ایم  مذاکرات کی میز پر آئے تاکہ مسائل حل کیے جائیں۔‘‘ 

Pervez Khattak
تصویر: picture-alliance/dpa

مبصرین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ پرویز خٹک نے یہ بیان فوجی قیادت کے مشورے سے دیا یا ذاتی حیثیت میں۔ پاکستان میں بعض فوجی افسران پی ٹی ایم پر مسلسل الزام لگاتے آئے ہیں کہ اسے افغانستان کی حمایت حاصل ہے اور یہ تنظیم ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

پی ٹی ایم ان الزامات کو پروپیگنڈا قرار دے کر رد کرتی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان کے آئین میں دیے گئے شہری حقوق کے لیے پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔ 

پی ٹی ایم کا مطالبہ رہا ہے کہ پچھلے سال خارقمر چیک پوسٹ سانحے کی تحقیقات کے لیے کمیشن قائم کیا جائے، ذمہ داروں کو قانون کے مطابق سزا ملے، جھوٹے مقدمات واپس لیے جائیں، دہشتگردی کا نشانہ بننے والے خاندانوں کو معاوضہ دی جائے اور مصالحتی کمیشن قائم کیا جائے۔