1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

مرسی کی سزائے موت پر تنقید، مصر کا پاکستان سے احتجاج

امتیاز احمد26 مئی 2015

پاکستان نے اخوان المسلمون کے معزول مصری صدر محمد مرسی کی سزائے موت کے خلاف قاہرہ حکومت پر تنقید کی تھی۔ مصر نے جواباﹰ قاہرہ میں تعینات پاکستانی سفیر کو طلب کرتے ہوئے احتجاج کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/1FWji
Mohamed Mursi Urteil Kairo Todesurteil
تصویر: picture-alliance/dpa/N. Galal/A. Alyoum

مصر کی وزارت خارجہ نے قاہرہ میں تعینات پاکستانی سفیر محمد اعجاز کو طلب کرتے ہوئے اسلام آباد حکومت کے رویے کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا ہے۔ محمد اعجاز کو طلب کرنے کے ایک روز بعد آج وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مصر اپنے ’’ذاتی معاملات میں ہر اس مداخلت کی مذمت کرتا ہے، جس کے منفی اثرات دونوں ملکوں کے تعلقات پر مرتب ہوں۔‘‘

یاد رہے کہ معزول صدر محمد مرسی کو سزائے موت سنائے جانے کے خلاف انسانی حقوق کے گروپوں، امریکا، یورپی یونین اور پاکستان نے آواز اٹھائی تھی۔ محمد مرسی کی سزائے موت کے فیصلے کے خلاف پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے انیس مئی کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا، ’’انصاف کی فراہمی کا مساوات اور انصاف کے اصولوں پر مبنی ہونا ضروری ہے۔‘‘ پاکستان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد حکام اس عدالتی فیصلے کو ’گہری تشویش‘ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستان امید کرتا ہے مصر کی حکومت قانون کے تحت انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے گی اور سیاسی قیدیوں کے معاملے میں رحمدلی کا مظاہرہ کرے گی۔

مصر کی ایک عدالت نے سولہ مئی کے روز معزول صدر محمد مرسی اور دیگر ایک سو سے زیادہ افراد کو2011ء کی عوامی شورش کے دوران جیل توڑنے کے الزام میں سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔

مرسی کے ساتھ ساتھ جن دیگر ایک سو سے زیادہ افراد کو سزائے موت سنائی گئی تھی، اُن میں سے زیادہ تر فلسطینی تھے، جن پر الزام ہے کہ وہ ہمسایہ غزہ پٹی میں برسرِاقتدار حماس کے ساتھ مل کر کام کر رہے تھے۔ ان افراد کے ساتھ ساتھ لبنان سے تعلق رکھنے والے ایک حزب اللہ کمانڈر کو بھی یہ سزا اُن کی غیر حاضری میں سنائی گئی تھی۔

یاد رہے کہ مصری فوج نے ایک سالہ اقتدار کے بعد سن دو ہزار تیرہ میں ملک کے پہلے جمہوری صدر محمد مرسی کو اقتدار سے بے دخل کر دیا تھا۔ اس کے بعد اخوان المسلمون کے ہزاروں کارکنوں کو قید کرتے ہوئے سزائیں سنائی گئیں جبکہ دو ہزار چودہ میں اخوان المسلمون کو ’دہشت گرد‘ تنظیم قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔