1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف مظاہرے جاری، مزید چھ ہلاکتیں

13 مارچ 2021

میانمار میں فوج کے اقتدار پر قبضہ کرنے کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ہفتے کے روز بھی سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے چھ احتجاجی ہلاک ہوئے۔

https://p.dw.com/p/3qaXm
Weltspiegel 12.03.2021 | Myanmar | Polizeieinsatz vor Gerichtsgebäude in Yangon
تصویر: REUTERS

ہفتہ 13 مارچ کو میانمار میں مظاہرین نے 33 برس قبل یعنی سن 1988 میں قائم فوجی حکومت کے خلاف عوامی تحریک شروع ہونے کی برسی منائی اور اس میں ہلاک ہونے والے طلبہ کو یاد کیا۔ اس موقع پر مختلف شہروں میں نکالی گئی احتجاجی ریلیوں میں سابقہ تحریک کی بازگشت سنائی دی۔

موجودہ فوجی حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ پہلی فروری کے بعد سے جاری ہے۔ اِس دن جمہوری طور پر منتخب آنگ سان سوچی کی سیاسی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کی حکومت کو ختم کر کے فوج نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ 13 مارچ کو بھی کم از کم چھ افراد کے ہلاک اور درجنوں کے زخمی ہونے کا بتایا گیا ہے۔

میانمار کی فوجی جنتا کا میڈیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن

سکیورٹی فورسز کی تازہ پرتشدد کارروائی

ہفتے کو تین افراد میانمار کے دوسرے بڑے شہر منڈالے میں مظاہرین کے ایک دھرنے کو منتشر کرنے کی کارروائی میں مارے گئے۔ ایک 23 سالہ نوجوان وسطی قصبے پی اے (Pyay) میں احتجاجی مظاہرے کے دوران مارا گیا۔

Myanmar | Proteste gegen Militärführung in Mandalay
میانمار کے کئی شہروں میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کی شدید نوعیت کی کارروائیاں کیتصویر: AP Photo/picture alliance

روئٹرز کے مطابق پی اے میں پولیس نے ایمبولینس کو بھی زخمی افراد تک جانے سے روک دیا تھا اور جب طبی امدادی پہنچی تو زخمی نوجوان دم توڑ چکا تھا۔ روئٹرز کو یہ تفصیلات نام مخفی رکھنے کی شرط پر مقامی افراد نے بتائی تھیں۔

دیگر دو احتجاجیوں کی ہلاکت ینگون میں ہوئی۔ ینگون میں ہونے والی ہلاکتوں کا ملکی میڈیا پر بھی بتایا گیا۔ نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی کے قریب سبھی نمایاں سیاسی رہنما اور ورکرز گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ ان میں نوبل انعام یافتہ خاتون رہنما آنگ سان سوچی بھی شامل ہیں۔

میانمار میں تشدد روکنے کے لیے اقوام متحدہ آگے آئے، سفیر

کئی عالمی لیڈروں کی تشویش

میانمار کی پرتشدد صورت حال کے حوالے سے امریکا، آسٹریلیا، بھارت اور جاپان کے رہنماؤں نے اپنی گہری تشویش کا ایک مرتبہ پھر اظہار کیا ہے۔ ان چاروں ملکوں کے لیڈروں کی  علاقائی امور کے تناظر میں ایک ورچوئل میٹنگ جمعہ بارہ مارچ کو ہوئی۔ ان رہنماؤں نے اس جنوب مشرقی ایشیائی ملک میں فوری طور پر جمہوریت کی بحالی کو وقت کی ضرورت قرار دیا۔

میانمار میں فوجی حکومت کے خلاف جمہوریت نوازوں کے مظاہروں میں سکیورٹی فورسز کی پرتشدد کارروائیوں میں اب تک 70 سے زائد انسان ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک اور بین الاقوامی پیش رفت یہ ہے کہ جنوبی کوریا نے میانمار کے ساتھ دفاعی تعاون کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے اور برطانیہ نے اپنے شہریوں کو اس ملک کو جلد چھوڑ دینے کی ہدایت کی ہے۔

Myanmar | Proteste & Gewalt nach Militärputsch
مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کا بے دریغ استعمال بھی کیاتصویر: STR/AFP/Getty Images

ڈبل ایٹ ڈبل ایٹ موومنٹ

ہفتہ 13 مارچ کے مظاہرے 33 برس قبل شروع ہونے والی طلبہ تحریک کی یاد میں بھی تھے۔ یہ تحریک ملکی تاریخ میں 8888 یعنی آٹھ اگست سن 88 کے حوالے سے یاد کی جاتی ہے۔ اس تحریک کو فوجی حکومت کے انتہائی جبر کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ صرف آٹھ اگست کو احتجاجی تحریک کچلنے کے لیے فوجی اقدام میں قریب تین ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔ مختلف اندازوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار کے لگ بھگ تھی۔

 فوج کا کرپشن سے متعلق الزام مضحکہ خیز ہے، آنگ سان سوچی کے وکیل

جمہوریت نوازوں کی یہ تحریک سن 1962 میں ملکی اقتدار سنبھالنے والی جنرل نی وِن کی فوجی حکومت سے جمہوریت کی بحالی اور کثیر الجماعتی سیاسی نظام کے مطالبے رکھتی تھی۔ جمہوریت کی بحالی کی طلبہ تحریک 12 مارچ سن 1988 کو شروع ہوئی تھی اور اسے 21 ستمبر سن 1988 تک مرحلہ وار پوری طرح کچل دیا گیا تھا۔

ع ح / اب ا (روئٹرز، اے ایف پی)