1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

وکی لیکس: ممبئی حملے اور ISI کا کردار

3 دسمبر 2010

وکی لیکس کی جانب سےحال ہی میں جاری کیے گئے خفیہ سفارتی پیغامات کے مطابق 26 نومبر 2008ء کے ممبئی حملوں میں پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ملوث ہونے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں۔

https://p.dw.com/p/QOxn
شجاع پاشا اور وزیر اعظم پاکستان: فاسل فوٹوتصویر: picture alliance / dpa

جنوبی ایشیا کے سفارتی حلقوں میں وکی لیکس کی طرف ممبئی حملوں کے حوالے سےکئے جانے والے انکشافات بڑی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ ان حملوں کی وجہ 'انٹیلی جنس ناکامی' تھی۔ یاد رہے کہ بھارت نے آئی ایس آئی پر ان حملوں میں براہ راست ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا، جسے پاکستان مسترد کرتا رہا ہے جبکہ پاکستانی میں کالعدم انتہاپسند تنظیم لشکر طیبہ کو حملوں میں ملوث قرار دیا جاتارہا ہے۔ یہ دستاویزات یہ بھی ظاہر کر رہی ہیں کہ بھارت کےشدید مؤقف کے باوجود امریکی سفارتی حکام ممبئی حملوں کے حوالے سے قدرے مختلف رائے رکھتے تھے۔

نومبر 2008ء میں ممبئی کے مختلف مقامات پردہشت گردانہ حملوں میں کم از کم 166 افراد ہلاک اور تین سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ دس حملہ آوروں نے یہ حملے تین دن تک جاری رکھے، جنہیں دنیا بھر میں توجہ حاصل رہی۔ ان کارروائیوں میں دو لگژری ہوٹلوں، ایک ریلوے سٹیشن اور ایک یہودی مرکز کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں 26 غیرملکی بھی ہلاک ہوئے تھے۔

Dossierbild wikileaks cablegate Version II 3
وکی لیکس اور اخبارت کی شہ سرخیاںتصویر: dpa

وکی لیکس کی طرف سے جاری کردہ خفیہ سفارتی پیغامات کے مطابق آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا نے ممبئی حملوں سے قبل اسرائیلی حکام کو بھارت میں یہودی اہداف پر ممکنہ دہشت گردانہ حملے کے بارے میں مطلع کر دیا تھا۔ ان کیبلز کے مطابق انہوں نے اسلام آباد میں تعینات سابق امریکی سفیر این پیٹرسن کو بتایا تھا کہ انہیں بھارت میں دہشت گردانہ حملے کے بارے میں اطلاعات دورہ واشنگٹن کے موقع پر ملی تھیں۔

سفارت کاری کا 40 سالہ تجربہ رکھنے والے پاکستان کے سابق سیکرٹری ۔گ۔خارجہ شمشاد احمد خان کہتے ہیں کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے وکی لیکس کے انکشافات کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے سفارتی حلقوں میں کافی سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔ ان کے بقول ان حملوں کا سب سے زیادہ فائدہ بھارت کو اور سب سے زیادہ نقصان پاکستان کو ہوا۔ شمشاد احمد خان مزید کہتے ہیں کہ ان حملوں کے بعد امریکی انتظامیہ صدر اوباما کے وعدے کے باوجودکشمیر کے مسئلے کو بھول گئی اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تقویت پکڑتی تحریک کو بہت نقصان پہنچا۔ سابق خارجہ سیکرٹری کے مطابق" یہ ماننا اب بھی آسان نہیں ہے کے چند لوگ 'نان سٹیٹ ایکٹرز' ساری بھارتی سیکورٹی ایجنسیوں کو ناکام کرکے حملہ کر گئے اور پوری بھارتی خفیہ ایجنسیاں، پولیس اور فوج انھیں نہ روک سکے۔ ان کے مطابق وکی لیکس نے بھی اب بتا دیا ہے کہ دال میں ضرور کچھ کالا ہے ۔ "

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: افسراعوان

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں