1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

ٹرمپ اقوام متحدہ کو ’تباہ کرنے سے باز‘ رہیں، جرمن چانسلر

1 اکتوبر 2018

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں امریکی صدر کی تقریر کے بعد جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقوام متحدہ کی ’تباہی‘ سے خبردار کیا ہے۔

https://p.dw.com/p/35nIO
Bundeskanzlerin Angela Merkel
تصویر: picture-alliance/M.Sohn

چانسلر انگیلا میرکل کا اتوار کے روز باویریا میں علاقائی انتخابی مہم کے دوران کہنا تھا، ’’میرے خیال میں کوئی نئی چیز تشکیل دیے بغیر کسی بنی ہوئی چیز کو تباہ کرنا انتہائی خطرناک عمل ہے۔‘‘

چانسلر میرکل کا اقوام متحدہ میں صدر ٹرمپ کی تقریر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’اقوام متحدہ پر حملہ عالمی امن کے لیے خطرہ ہے۔‘‘

چانسلر میرکل کا کہنا تھا کہ ٹرمپ  ’وِن وِن سیچوایشن‘ سے ناواقف ہیں بلکہ وہ صرف اور صرف اپنی جیت کے متمنی رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی موجودہ پوزیشن سے عالمی مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ جرمنی کی خاتون چانسلر نے ٹرمپ کو اقوام متحدہ پر مزید ’حملے‘ کرنے سے بھی خبردار کیا ہے۔

BG Trump "allein zu Hause" bei der UNO
صدر ٹرمپ نے تقریر کرتے ہوئے اس ادارے کی کارکردگی اور موجودگی پر ہی سوالیہ نشانہ اٹھا دیے تھےتصویر: Reuters/E. Munoz

 یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں صدر ٹرمپ نے تقریر کرتے ہوئے اس ادارے کی کارکردگی اور موجودگی پر ہی سوالیہ نشانہ اٹھا دیے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی انتظامیہ نے ’عالمگیریت کے نظریے کو مسترد کرتے ہوئے قوم پرستانہ نظریے کو اپنایا ہے۔‘‘ میرکل کا کہنا تھا کہ جس وقت بہت سی چیزوں پر سوالیہ نشان اٹھا دیے جائیں تو وہ ’خطرناک وقت‘ ہوتا ہے۔

جرمن چانسلر امریکی صدر کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے کے بعد اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کے کیمپ میں شامل ہو گئی ہیں۔ انہوں نے بھی امریکی صدر کی تقریر سے پہلے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا، ’’آج ورلڈ آرڈر تیزی سے افراتفری کا شکار ہو رہا ہے۔‘‘

چانسلر میرکل کا خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ عوام یورپی یونین پر پختہ یقین رکھیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے یورپی یونین میں اصلاحات کو وقت کی ضرورت قرار دیا ہے۔

 جرمن چانسلر کا یورپی یونین کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’یورپ اپنی اقدار، اپنے موقف اور اپنے مفادات پر اسی وقت تک عمل پیرا رہ سکتا ہے، جب ہماری سلامتی اور خارجہ پالیسی ایک جیسی ہو گی۔‘‘

ا ا / ع ا (روئٹرز، اے ایف پی، ڈی پی اے)