1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان اور بھارت کورونا کی تشخیص کے عمل میں بہت پیچھے

شاہ زیب جیلانی
6 اپریل 2020

کورونا وائرس کے ٹیسٹ کے لیے استعمال ہونے والی مشینوں کی کمی، غیر معیاری لیبارٹریز اور تربیت یافتہ عملے کا فقدان کووِڈ انیس کے مرض کی تشخیص میں اس وقت دونوں ممالک کے لیے سب سے بڑی رکاوٹیں ہیں۔

https://p.dw.com/p/3aVXw
Coronavirus Pakistan
تصویر: Getty Images/AFP/R. Tabassum

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی تشخیص نہایت محدود پیمانے پر کی جا رہی ہے، اس لیے ابھی تک مغربی ممالک کی نسبت ملک میں اس وبا سے متاثرہ کیسز کی کم تعداد سامنے آ رہی ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک میں اب تک محض چتھیس ہزار لوگوں کے ٹیسٹ ممکن ہو سکے ہیں۔ بیس کروڑ سے زائد آبادی والے ملک میں یہ تعداد آٹے میں نمک کے برابر ہے۔

لاہور کے ہسپتال پی کے ایل آئی کے صدر ڈاکٹر سعید اختر کے مطابق ملک میں اس وقت روزانہ کم از کم دس ہزار ٹیسٹ ہونے چاہییں جبکہ سابق وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطا الرحمن کے مطابق ملک میں کورونا کے مریضوں کا سہی اندازہ لگانے کے لیے روزانہ کم از کم بیس ہزار ٹیسٹ ہونا ضروری ہیں۔

ماہرین کے مطابق ناکافی ٹیسٹنگ کی بنیادی وجہ وسائل کی کمی ہے۔ پاکستان نے چند ہزار ٹیسٹنگ مشینیں چین سے منگوائی ہیں اور اس ہفتے مزید سامان بھی متوقع ہے لیکن ملک میں اچھی لیبارٹریوں کا فقدان اور تربیت یافتہ عملے کی کمی بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔

Global Ideas Indien Coronavirus Lockdown in Neu-Delhi
تصویر: picture-alliance/AA/A. K. Singh

پاکستان میں اب تک جو ٹیسٹنگ ہوئی ہیں وہ زیادہ تر ایئرپورٹ اور بڑے شہروں تک ہی محدود رہی ہیں۔ ملک کے طول و عرض کے بیشتر قصبوں اور دیہاتوں میں تشخیص کی مشینوں کے فقدان کی وجہ سے متعدد مشتبہ مریضوں کے ٹیسٹ ابھی تک نہیں ہو پائے۔

یہ بھی پڑھیے: کورونا: بھارت میں اموات 100 اور مصدقہ متاثرین 4000 سے زیادہ

اسی طرح بھارت کی آبادی پاکستان سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ وہاں حکام اب تک تقریباﹰ نوے ہزار ٹیسٹ کر پائے ہیں، جو آبادی کے تناسب  سے بہت کم ہیں۔ بھارت میں اس وقت لگ بھگ پانچ ہزار افراد کا روزانہ ٹیسٹ کیا جا رہا ہے۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ ملک میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت کو تیزی سے بڑھائیں گے تاکہ روزانہ بیس ہزار ٹیسٹ ممکن بنائے جا سکیں۔

اس کے مقابلے میں ایران اور چین نے کہیں زیادہ ٹیسٹنگ کی اور اسی لیے وہاں کیسز کی کہیں زیادہ تعداد سامنے آئی لیکن ساتھ ہی وبا کو کافی حد تک قابو کرنے میں مدد بھی ملی۔

Deutschland Coronavirus (COVID-19) Testzentrum in Frankfurt
تصویر: Reuters/K. Pfaffenbach

یورپ میں برطانیہ میں ابھی لگ بھگ دس ہزار ٹیسٹ روزانہ کیے جا رہے ہیں، جو کہ جرمنی کے مقابلے میں کافی کم ہے۔ برطانیہ میں حکومت نے کہا ہے کہ اس کی پوری کوشش ہے کہ اپریل کے اختتام تک ملک میں ہر روز ایک لاکھ ٹیسٹ ممکن بنائے جا سکیں۔

یہ بھی پڑھیے: جرمنی: کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد ایک لاکھ سے متجاوز

جرمنی نے کورونا وائرس کے بحران کے شروع سے ہی ٹیسٹنگ پر زور دیا اور اب تک برطانیہ کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ٹیسٹ کر دیے۔ جرمنی میں متاثرین کے تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے، تاہم اموات کی تعداد اٹلی اور اسپین کے مقابلے میں کافی کم رہی ہے۔

عالمی سطح پر بڑے پیمانے پر متاثرہ ممالک میں شامل اٹلی، جنوبی کوریا اور اسپین ٹیسٹنگ میں خاصے آگے ہیں۔ ان ملکوں میں ٹیسٹنگ کے باعث ابتدائی پریشانی ہوئی لیکن کورونا کیسز کی نشاندہی اور متاثرہ افراد کی نقل و حرکت محدود کرنے کے بعد آہستہ آہستہ بہتری کے اشارے مل رہے ہیں۔

روبوٹس کے ذریعے کووِڈ انیس کے مریضوں کا علاج

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں