1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پاکستان میں بھارتی فلم ’فینٹم‘ کی نمائش پر پابندی

تنویر شہزاد، لاہور20 اگست 2015

لاہور ہائی کورٹ نے بھارتی فلم ’فینٹم‘ کی پاکستانی سینما گھروں میں ممکنہ نمائش پر پابندی لگا دی ہے۔ ممبئی حملوں کے تناظر میں بنائی گئی اس بھارتی فلم کے خلاف متنازعہ پاکستانی مذہبی رہنما حافظ سعید نے عدالت سے رجوع کیا تھا۔

https://p.dw.com/p/1GJ6i
’فینٹم‘ کی ہیروئن کترینہ کیفتصویر: picture-alliance/AP Photo/R. Kakade

آج جمعرات بیس اگست کے روز لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس شاہد بلال حسن نے اس کیس کی سماعت کی تو اس موقع پر عدالت میں حافظ محمد سعید کے وکیل اے کے ڈوگر کا کہنا تھا کہ اس فلم میں پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے لیے منفی پراپیگنڈا کیا گیا ہے۔

بعد ازاں ڈی ڈبلیو سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اے کے ڈوگر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس فلم کے ٹریلر میں پاکستان میں گھس کر ایک پاکستانی شہری کی جان لینے کی جو بات کی گئی ہے، وہ پاکستان کی خود مختاری اور قانون کے منافی ہے۔ ان کے بقول اس عمل سے پاکستانی شہری کی زندگی کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں، دوسری طرف بھارتی فلم سے وابستہ لوگوں کا موقف ہے کہ اس فلم میں ایک ایسے شخص کا تذکرہ ہے، جو دہشت گردی کے الزام میں مطلوب ہے۔

اس کیس میں پاکستان کی وزارت داخلہ اور وزارت اطلاعات کو فریق بنایا گیا تھا۔ وفاقی حکومت کے وکیل نے عدالت کے روبرو بتایا کہ یہ درخواست قبل از وقت دائر کی گئی ہے کیونکہ ابھی تک نہ تو کسی نے اس فلم کی نمائش کی اجازت مانگی ہے اور نہ ہی کسی کو یہ فلم دکھانے کے لیے کوئی این او سی جاری کیا گیا ہے۔

عدالت کے اس سوال پر کہ پاکستان کے گلی محلوں میں ڈی وی ڈیز اور کیبل پر دکھائی جانے والی غیر ملکی فلموں کا معاملہ کس ادارے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، وفاقی حکومت کے وکیل نے بتایا کہ اس پر کارروائی کا اختیار پیمرا کو حاصل ہے۔ اس پر عدالت نے اپنا فیصلہ عبوری طور پر محفوظ کر لیا، جو جمعرات کی شام سنایا گیا۔ اے کے ڈوگر کے بقول اس عدالتی فیصلے کے بعد اب پاکستانی حکومت کے لیے لازم ہو گیا ہے کہ وہ ڈی وی ڈیز اور کیبل پر بھی اس بھارتی فلم کی نمائش کو روکے۔

پاکستان میں فلموں کے کاروبار پر گہری نظر رکھنے والے ممتاز ماہر ندیم مانڈوی والا نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ خصوصی گفتگو میں بتایا کہ انہیں نہیں معلوم کہ اس معاملے پر عدالت جانے کی ضرورت کیوں محسوس کی گئی۔ ان کے بقول موجودہ حالات میں کوئی پاکستانی بھی اس فلم کو پاکستان لا کر دکھانے کی ہمت نہیں کر سکتا۔ ’’بھارت ہر سال قریب ڈھائی سو ہندی فلمیں بناتا ہے، کوئی پاگل ہی ہو گا جو ساری فلمیں چھوڑ کر، بھاری سرمایہ لگا کر، ایک ایسی فلم پاکستان لے کر آئے، جس کی نمائش پاکستان میں فلم بینوں کی بڑی تعداد کی ناراضگی کا باعث بن سکتی ہو۔‘‘

2015 Film Phantom Katrina Kaif und Kabir Khan
’فینٹم‘ کی ہیروئن کترینہ کیف فلم کے ڈائریکٹر کبیر خان کے ہمراہتصویر: picture-alliance/AP Photo/R. Kakade

فلموں کی تقسیم کاری اور نمائش کا طویل تجربہ رکھنے والے ندیم مانڈوی والا کا یہ بھی کہنا تھا کہ مارکیٹ کے حالات بھی فلمسازوں کو مجبور کر رہے ہیں کہ وہ متنازعہ امور میں نہ الجھیں۔ ان کے بقول پاکستان بھارت سے باہر بھارتی فلموں کی سب سے بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔

انہوں نے مثال دیتے ہوئے بتایا کہ بھارتی اداکار سلمان خان نے ’ایک تھا ٹائیگر‘ نامی اپنی فلم پر پاکستان میں پابندی لگنے کے بعد اپنے سٹاف کو ہدایت کی تھی کہ ان کی نئی فلم ’بجرنگی بھائی جان‘ میں پاکستان کے حوالے سے کوئی قابل اعتراض بات نہ ہو، ’’کترینہ کیف اور سیف علی خان کے ساتھ بننے والی ’فینٹم‘ اگر پاکستا ن میں دکھائی جاتی تو اس سے کم از کم بھارتی فلم میکرز کو آٹھ دس کروڑ روپے کی آمدن ضرور ہوتی، جس کا اب کوئی امکان باقی نہیں بچا۔‘‘

اس سوال کے جواب میں کہ آیا سینما گھروں میں شو پر پابندی کے باوجود پاکستانی یہ فلم دیکھ پائیں گے، ان کا کہنا تھا کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ پاکستانی حکام ڈی وی ڈیز اور کیبل پراس فلم کی نمائش کو روکنے کے حوالے سے عدالتی حکم پر کتنی سختی سے عمل درآمد کرواتے ہیں۔ ’’کارگل جنگ کے بعد تو بھارتی فلمیں سچ مچ دکھائی جانی بند ہو گئی تھیں لیکن آج کل ایسی سختی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔‘‘