1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
ماحولپاکستان

پاکستان میں شدید بارشیں، آٹھ افراد ہلاک اور 12 زخمی

31 مارچ 2024

پاکستان کے شمال مغرب میں موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں تین بہن بھائی بھی شامل ہیں، جن کی عمریں تین سے سات برس کے درمیان تھیں۔

https://p.dw.com/p/4eHuO
پاکستان کے شمال مغرب میں موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے ہیں
پاکستان کے شمال مغرب میں موسلا دھار بارشوں کے نتیجے میں کم از کم آٹھ افراد ہلاک اور 12 زخمی ہو گئے ہیںتصویر: Stringer/Xinhua/IMAGO

مقامی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان انور شہزاد کے مطابق صوبہ خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں موسلادھار بارشوں کے نتیجے میں متعدد گھر اس وقت منہدم ہوئے، جب لوگ ان کے اندر تھے۔

شہزاد نے بتایا کہ مرنے والوں میں تین بہن بھائی بھی شامل ہیں، جن کی عمریں تین سال سے سات سال کے درمیان تھیں۔

پاکستان میں رواں سال موسم سرما کی بارشوں میں تاخیر ہوئی ہے۔ عمومی طور پر ان بارشوں کا آغاز نومبر کے مہینے میں ہوتا ہے لیکن اس مرتبہ ان کا آغاز فروری میں ہوا۔

گوادر: شدید بارشوں کے سبب ہزاروں افراد بے گھر

پاکستان میں ہر سال ہی مون سون اور سردیوں کی بارشیں شدید جانی و مالی نقصان کا باعث بنتی ہیں۔ مارچ کے شروع میں شمال مغربی علاقوں میں بارش سے متعلقہ واقعات میں تقریباً 30 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

 سن دو ہزار بائیس آنے والے تباہ کن سیلاب اور اس کے نتیجے میں بیماریوں کے پھیلنے سے تقریباً  دو ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھے
سن دو ہزار بائیس آنے والے تباہ کن سیلاب اور اس کے نتیجے میں بیماریوں کے پھیلنے سے تقریباً  دو ہزار افراد ہلاک ہوگئے تھےتصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

عالمی موسمیاتی تبدیلیاں جنوبی ایشیائی ملک پاکستان کو شدید متاثر کر رہی ہیں۔ اس ملک میں سن دو ہزار بائیس آنے والے تباہ کن سیلاب اور اس کے نتیجے میں بیماریوں کے پھیلنے سے تقریباً  دو ہزار افراد ہلاک ہو گئے تھے اور ملک کا ایک تہائی حصہ زیر آب آ گیا۔ ان سیلابوں میں مجموعی طور پر 33 ملین افراد متاثر ہوئے تھے۔ پاکستان عالمی سطح پر کاربن کے ایک فیصد سے بھی کم اخراج کا ذمہ دار ہے لیکن اس کا شمار موسمیاتی خطرات سے دوچار چوٹی کے دس ممالک میں ہوتا ہے۔

افغانستان میں بھی شدید بارشیں

پاکستان کی سرحد کے قریب افغانستان کے علاقوں میں بھی 29 اور 30 ​​مارچ کو ہونے والی شدید بارشوں نے 1500 ایکڑ سے زائد زرعی اراضی کو تباہ کر دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے ہفتے کے روز اس کا اعلان کیا، ''افغانستان کے سات صوبوں میں سینکڑوں گھروں، پلوں اور سڑکوں جیسے اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ صوبے شمالی فاریاب اور مشرقی ننگرہار ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایجنسی  کے مطابق شمالی علاقوں میں ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ تیسرا سیلاب آیا ہے، جس میں سات افراد ہلاک اور 384 خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

 ا ا / ر ب (اے پی)

سیلاب متاثرین بدستور مدد کے منتظر