1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

پیغمبر اسلام کی رحلت کے صرف بیس سال بعد لکھا گیا قرآنی نسخہ

مقبول ملک3 اپریل 2015

جرمنی کی ایک انتہائی اہم لائبریری میں موجود ہاتھ سے لکھے گئے قرآن کے ایک ایسے نسخے کی باقیات کے حوالے سے ثابت ہو گیا ہے کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب کا یہ نسخہ پیغمبر اسلام کی رحلت کے صرف قریب بیس سال بعد لکھا گیا تھا۔

https://p.dw.com/p/1F2Wx
برلن کی پروشیائی اسٹیٹ لائبریریتصویر: picture-alliance/akg-images/L. M. Peter

جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق یہ نسخہ دنیا بھر میں قرآن کے باریک چمڑے کی تہوں پر ہاتھ سے لکھے گئے قدیم ترین نسخوں میں سے ایک ہے، جو برلن ہی میں قائم محققین کی طرف سے تعلیمی، تاریخی اور تحقیقی مقاصد کے لیے استعمال کی جانے والی Prussian Staatsbibliothek یا پروشیا کی ریاستی لائبریری میں محفوظ ہے۔

برلن میں قائم اس پروشیائی اسٹیٹ لائبریری نے بتایا ہے کہ اس کے پاس یہ انتہائی قدیم قرآنی نسخہ مکمل حالت میں موجود نہیں بلکہ اس کے صرف سات پتلے پتلے صفحات ہیں جو دراصل چمڑے کے بہت باریک پارچے ہیں۔ ان پارچوں کے بارے میں تازہ ترین ریسرچ اور جدید ذرائع سے کیے جانے والے سائنسی معائنوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ قرآنی نسخہ سن 606ء اور 652ء کے درمیانی عرصے میں چمڑے پر ہاتھ سے لکھا گیا تھا۔

اس طرح یہ سات صفحات اب تک دستیاب اور قرآن کے ہاتھ سے لکھے گئے ان قدیم ترین نسخوں میں سے ایک کا حصہ ہیں، جو پیغمبرِ اسلام کی رحلت کے زیادہ سے زیادہ بھی محض 20 بعد سال بعد لکھا گیا تھا۔ عیسوی کیلنڈر کی رو سے پیغمبرِ اسلام کی پیدائش 571 عیسوی میں مکہ میں ہوئی تھی اور ان کی رحلت سن 632ء میں مدینہ میں ہوئی تھی۔

ڈی پی اے کے مطابق برلن کی پروشین اسٹیٹ لائبریری کے اعلٰی ذرائع نے جرمن اخبار مَیرکیشے الگمائنے سائٹُنگ کو بتایا کہ قرآن کے اس انتہائی قدیم دستی نسخے کے یہ صفحات ایک ایسے جرمن عالم کی ملکیت تھے، جو 19 ویں صدی کے آخری اور 20 ویں صدی کے ابتدائی برسوں میں مصری دارالحکومت قاہرہ میں تحقیق کے لیے مقیم تھا۔ برلن کے اس تاریخی کتب خانے کے ذرائع کے مطابق قاہرہ میں قدیم علوم کے ماہر اس جرمن محقق کی موت کے بعد اس کی ملکیت دستاویزات اس لائبریری نے خرید لی تھیں۔

internationales Strategietreffen zum Erhalt der Timbuktu-Handschriften
ٹمبکٹو کے قدیم اسلامی کتب خانوں میں موجود نادر قلمی نسخوں (فوٹو)کو تباہی سے بچانے کے لیے ایک بین الاقوامی کانفرنس بھی برلن کی اسی لائبریری میں ہوئی تھیتصویر: DW/Sandrine Blanchard

ابھی حال ہی میں ممکنہ طور پر قریب 1400 سو سال پرانے ان صفحات کو تفصیلی معائنے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں زیورخ یونیورسٹی کی ایک لیبارٹری میں بھیجا گیا، جہاں ریڈیو کاربن ٹیسٹوں کی مدد سے ان صفحات کی عمر کا تعین کرنے کی کوشش کی گئی۔

لائبریری کے ذرائع نے اخبار مَیرکیشے الگمائنے سائٹُنگ کو بتایا، ’’ریڈیو کاربن معائنوں سے ثابت ہو گیا ہے کہ یہ سات قرآنی صفحات جس نسخے کا حصہ تھے، وہ 606ء اور 652ء کے درمیانی عرصے میں لکھا گیا تھا، یعنی زیادہ سے زیادہ بھی پیغمبر اسلام کی رحلت کے صرف 20 سال بعد۔‘‘

گزشتہ برس جرمنی ہی میں ٹیُوبِنگن یونیورسٹی کی لائبریری نے بھی اپنے ہاں محفوظ ان 77 صفحات کا ریڈیو کاربن معائنہ کرایا تھا جو کبھی قرآن کے ہاتھ سے لکھے گئے ایک بہت قدیم نسخے کا حصہ تھے۔ اس نسخے کے بارے میں بھی یہ پتہ چلا تھا کہ یہ زیادہ سے زیادہ پیغمبر اسلام کی دنیا سے رخصتی کے 20 سے لے کر 40 سال بعد تک کے عرصے میں کسی وقت لکھا گیا تھا۔

ٹیُوبِنگن یونیورسٹی کی لائبریری کے پاس موجود قرآن کا یہ جزوی نسخہ اس کتب خانے کی ویب سائٹ پر آن لائن دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔