1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کوبلینس، تاریخ کے آئینے میں

1 مئی 2013

کوبلینس میں جرمنی کی عسکری تاریخ کا مکمل عکس دیکھا جا سکتا ہے۔’نا ئیٹ آف دی جرمن کامجسمہ دریائے موزل اور دریائے رائن کے سنگم پر کئی عشروں سے موجود ہے۔

https://p.dw.com/p/zuBO
تصویر: Dominik Ketz/Rheinland-Pfalz Tourismus GmbH

وہ مقام جہاں دونوں دریاؤں کا ملاپ ہوتا ہے ’جرمن کارنر‘ کہلاتا ہے اور ان دونوں کے درمیان عظیم جرمن بادشاہ ولہیم یکم کا تاریخی مجسمہ ہے جس میں وہ ایک جنگی گھوڑے پر سوار ہیں۔ دریائے رائن کے کنارے پرعسکری نوعیت کا تاریخی قلعہ اہیرن برائٹ سٹائن واقع ہے جو ماضی کی جنگوں کی یادگار ہے۔ آئفل کاعلاقہ، جہاں تین مختلف پہاڑیوں کے سلسلے ہونسرک، ٹاونُس اور ویسٹر والڈ آپس میں مدغم ہوتے ہیں وہی اس کے قریب ہی دریائے موزل، دریائے رائن میں جا ملتا ہے۔

اس خوبصورت اور دلفریب منظر کو مشہور مزاح نگار کرٹ چولسکی نے ’ایک سجے ہوئے دیوقامت کیک‘ سے تشبیح دی تھی۔ بلاشبہ اس علاقے کا شمار جرمنی کے خوبصورت ترین مقامات میں ہوتا ہے۔

جرمن کارنر اور رومانی جگہیں

جرمن کارنر، شاہ ولہیم کاتاریخی مجسمہ اور اہیرن برائٹ سٹائن کا قلعہ سیاحوں کے لئے خاص کشش رکھتا ہے۔ موسم گرما میں ہرسال ہزاروں سیاح یہاں آتے ہیں اور اپنے کیمروں میں ان خوبصورت مناظر کو قید کر لیتے ہیں۔ شہر کے مرکز میں واقع بھول بھلیوں جیسی گلیوں میں گھومنا خاص کر جاپانی سیاحوں کے لئے آسان نہیں رہتا کیونکہ آنکھوں میں دوربین لگائے مشرقی دیس کے یہ باسی با آسانی ان گلیوں میں گم ہوجاتے ہیں۔ پھر خود کو ان گلیوں سے باہر نکالنے کا واحد ذریعہ وہ پب یا ریستوران ہیں جہاں لوگوں کا جم غفیر رہتا ہے۔

Bildgalerie Horst Faas Bundeswehr
50ء کی دہائی میں جرمن فوجی کوبلینس میں تربیتی مشق کے دورانتصویر: AP

اگران کے پاس کارل بیڈیکرکا معاون سفرتی کتابچہ ہو تواس صورت میں حتیٰ الامکان کسی کی مدد کے بغیر بھی ان بھول بھلیوں سے نکلا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر سیاح شراب نوشی کے زیر اثر ہوں تو نہ پھر نہ سفری کتابچہ کسی کام آسکتا ہے اور نہ ہی ریستورانوں کے مالکان ان کی مدد کر سکتے ہیں۔

بحری جہاز، چمنیاں اورفوجی

سیاحوں کی آمد ہمیشہ پب اور ریستورانوں کے مالکان کے لئے خوشی کا باعث ہوتی ہے لیکن عام طور پر اس شہر کے باشندے موسم گرما میں پرانے شہر میں جانے سے گریز کرتے ہیں جہاں سیاحوں کے جھنڈ کے جھنڈ نظر آتے ہیں۔ کوبلینس کی آبادی تقریباﹰ ایک لاکھ دس ہزار ہے اور یہاں کے لوگ محنتی اور وقت کے پابند ہیں۔ لوگوں کے روزگار کابڑا ذریعہ بندرگاہ، صنعتیں، خدمات کا شعبہ اور صوبائی حکومت کے انتظامی دفاتر ہیں۔ کوبلینس میں تقریباﹰ بارہ ہزارجرمن فوجی بھی تعینات ہیں۔ یہ شہر رومیوں کے دور حکومت سے آج تک فوجی سرگرمیوں کامرکز رہا ہے۔

بیتھوون، میڑنش اور طالب علم

ایک اہم فوجی مرکز ہونے کی وجہ سے دوسری عالمی جنگ کے دوران اتحادی افواج نے یہاں شدید بمباری کی تھی۔ اس کے باعث یہ شہر تقریباﹰ تباہ ہوگیا تھا۔ عظیم موسیقارلڈوگ فان بیتھوون(Ludwig van Beethoven) کی والدہ یہاں پیدا ہوئیں اس کے علاوہ یہاں ہر سال ’بیتھوون نمائش‘ کا انعقاد کیا جاتا ہے جس میں دنیا بھر سے ان کے پرستار شرکت کرتے ہیں۔

پرنس میٹرنش 1773ء میں یہاں پیدا ہوئےجنہوں نے بیتھوون کی یاد میں عوامی ریلیوں میں شرکت پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ اب یہ دونوں شخصیات تاریخ کا حصہ ہیں لیکن ایک کو لوگ پسندیدگی کے اونچے درجے پر رکھتے ہیں اور دوسری شخصیت کوکوئی خاص مقبولیت حاصل نہیں ہے۔

Flash-Galerie Stadt Koblenz deutsches Eck
دو دریاوں کے ملاپ کا مقامتصویر: Stadt Koblenz

سابقہ فوجی مرکزکی جگہ اب ایک جدید یونیورسٹی تعمیر کی گئی ہے یعنی جہاں پہلے توپوں کی گھن گھرج اور گولیوں کی آوازیں آتی تھیں اب وہ جگہ تعلیم و تدریس کے حوالے سے جانی جاتی ہے۔ پرانے فوجی بیرکس میں طالب علم اور اساتذہ رہائش پذیر ہیں۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں