1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کیا اگلی باری شہباز شریف کی ہے؟

22 فروری 2018

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وزارت عظمٰی اور اب مسلم لیگ نواز کی صدارت سے ہاتھ دھونے کے بعد بھی نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر سمیت شریف فیملی کے متعدد افراد کو عدالتوں میں مقدمات کا سامنا ہے۔

https://p.dw.com/p/2t9KB
Pakistan Stromerzeugung Korruption Ministerpräsident Punjab Shehbaz Sharif
تصویر: DGPR

پنجاب میں شریف فیملی کے لیے تازہ ترین دھچکا لاہور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے سابق سربراہ اور پنجاب کے چیف منسٹر میاں شہبار شریف کے دست راست احد چیمہ کی گرفتاری ہے۔ پنجاب حکومت کے ترجمان ملک احمد خان نے اس واقعے کو نامناسب قرار دیا ہے۔ جبکہ ڈی ایم جی افسران کے ایک اعلٰی سطحی وفد نے وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف سے ملاقات کر کے انہیں اس حوالے سے بیوروکریسی کے تحفظات سے آگاہ کیا۔

بدھ 21 فروری کو قومی احتساب بیورو (نیب) کے اہلکاروں نے آشیانہ اقبال ہاؤسنگ سوسائٹی میں کرپشن کے الزام میں احد چیمہ کو ان کے دفتر سے گرفتار کیا تھا۔ احد چیمہ کو جمعرات کے روز لاہور کی احتساب عدالت میں جج محمد اعظم کے روبرو پیش کیا گیا اور نیب کی جانب سے ان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔ اس پر احتساب عدالت نے احد چیمہ کو جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

سماعت کے دوران نیب حکام کی طرف سے عدالت کو بتایا گیا کہ احمد چیمہ نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم میں جعل سازی کی اورسرکاری اختیارات کا ناجائز استعمال کیا جبکہ تفتیش میں بھی تعاون نہیں کیا۔ نیب حکام کے مطابق احد چیمہ نے ایک کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے قواعد و ضوابط کو بائی پاس کیا، لہٰذا اس معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے ملزم کا ریمانڈ دیا جائے۔ سماعت کے دوران احد خان چیمہ نے عدالت کو بتایا کہ ان پر لگائے گئے الزامات درست نہیں ہیں۔ اس پر نیب کے پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ یہ وائٹ کالر کرائم ہے جو تہہ در تہہ پردوں میں چھپا ہے اور اس میں کئی اور لوگ بھی ملوث ہیں جو تحقیق کے بعد ظاہر ہوں گے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد احد خان چیمہ کو پانچ مارچ تک کے لیے جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

ایل ڈی اے کے سابق سربراہ کی گرفتاری پر پنجاب کی صوبائی حکومت کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ترجمان پنجاب حکومت ملک محمد احمد کا کہنا تھا کہ نیب نے احد خان چیمہ کو گرفتار کر کے اپنے اختیارات کو پامال کیا ہے اور یہاں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں، جس میں نیب نے انہیں گرفتار نہیں کیا جو ان کے طلب کرنے پر پیش نہیں ہوئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب نے سینیئر سرکاری نمائندے کی گرفتاری میں قانونی طریقہ کار پر عمل نہیں کیا اور یہ معاملہ پنجاب حکومت کے لیے تحفظات کا باعث ہے۔

احد چیمہ کی گرفتاری کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نیب کو نیب بن کر کام کرنا چاہیے اور خواہش ہے کہ نیب گزشتہ آٹھ برسوں میں مخلتف منصوبوں میں بچائے گئے اربوں روپے کے بارے میں ہم سے پوچھے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب کو مختلف تحقیقات کے لیے مطلوب تمام ریکارڈ بھیج دیا گیا تھا۔

نیب کے ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے پاس احد چیمہ کے خلاف ٹھوس شواہد موجود ہیں۔ ان کے مطابق احد چیمہ ملک سے باہر جانے والے تھے۔ پنجاب پولیس کے ایک سینیئر افسر نے اپنا نام نہ ظاہر کی درخواست کے ساتھ ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ پنجاب حکومت نیب حکام کے خلاف احد چیمہ کے اغوا کا مقدمہ درج کروانے پر غور کر رہی ہے۔

Pakistan Maryam Nawaz Sharif, Tochter des Premierministers
نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر سمیت شریف فیملی کے متعدد افراد کو عدالتوں میں مقدمات کا سامنا ہے۔تصویر: Reuters/F. Mahmood

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے روزنامہ 92 کے گروپ ایڈیٹر ارشاد احمد عارف نے بتایا کہ ابھی صرف احد چیمہ گرفتار ہوئے ہیں۔ ان کی اطلاع کے مطابق آنے والے دنوں میں دو چار ہائی پروفائل گرفتاریاں مزید بھی ہونے جا رہی ہیں: ’’اصل مسئلہ میاں شہباز شریف کی طرز حکمرانی کا ہے، وہ جونیئر افسروں کو نواز کر ان سے اپنے مرضی کے کام کرواتے ہیں۔ اصل میں ہر اہم فیصلہ شہباز شریف خود کرتے ہیں، یوروکریسی صرف استعمال ہوتی ہے۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا، ’’احد چیمہ کی گرفتاری نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ شہباز شریف کو آئندہ وزیر اعظم بنانے کے لیے طاقتور حلقوں کی حمایت حاصل نہیں ہے۔ یا یہ کہ یہ طاقتور حلقے شہباز شریف کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے ہیں۔ اگر جاوید اشرف قاضی، اور سعید الظفر جیسے جرنیلوں کے خلاف احتسابی کارروائی ہو سکتی ہے تو پھر شہباز شریف اس عمل سے کیسے مبراء ہو سکتے ہیں۔ بے لاگ اور کڑے احتساب ہی میں ملک کی بہتری ہے اور لگتا ہے کہ ریاست کے اہم اداروں میں اس حوالے سے اتفاق پایا جاتا ہے۔‘‘

Pakistan Ex-Premierminister Nawaz Sharif
پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو وزارت عظمٰی سے ہٹائے جانے کے بعد عدالت کی طرف سے اب مسلم لیگ نواز کی صدارت سے ہٹانے کا فیصلہ سنایا گیا۔تصویر: Getty Images/AFP/A. Qureshi

اس حوالے سے متوقع رد عمل کے حوالے سے پوچھے جانے والے ایک سوال کے جواب میں  ارشاد احمد عارف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کو پارٹی صدارت سے ہٹائے جانے پر ملک میں ایک بھی احتجاجی مظاہرے کا نہ ہونا بہت کچھ واضح کر رہا ہے۔

پاکستان کے ایک ممتاز اور سینیئر صحافی مجیب الرحمن شامی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ احد چیمہ کی گرفتاری نے پنجاب حکومت کے لیے مشکل پیدا کر دی ہے اور سرکاری افسران میں اس واقعے کے بعد اضطراب پایا جاتا ہے۔ ان کے بقول احد چیمہ پر لگایا جانے والا الزام بھی دلچسپ ہے کہ اربوں روپے کے منصوبوں کو ڈیل کرنے والے افسر سے تین کروڑ روپے کی زمین کے بارے میں پوچھا جا رہا ہے۔ ان کےخیال میں احتساب کے قانون میں ترمیم کے لیے پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ نون کا ساتھ نہیں دیا تھا اس لیے اب احتساب کے موجودہ قانون کے تحت ہی سب کو احتسابی کارروائیوں کا سامنا کرنا ہو گا۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید