1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

کیمیائی ہتھیاروں کے ادارے نے چھان بین مکمل کر لی، روس

4 مئی 2018

روسی حکام نے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے روک تھام کے بین الاقوامی ادارے نے شامی شہر دوما میں چھان بین کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کی ذمہ داری شامی صدر بشار الاسد کی فورسز پر عائد کی جاتی ہے۔

https://p.dw.com/p/2xCAv
Niederlande Eingang der OPCW
تصویر: Getty Images/AFP/J. Thys

خبر رساں ادرے روئٹرز کے مطابق روسی وزارت دفاع نے آج جمعرات چار مئی کو بتایا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے روک تھام کے ادارے (او پی سی ڈبلیو) کے معائنہ کاروں نے شامی شہر دوما میں مبینہ کیمیائی حملے کے مقام پر اپنی چھان بین کا عمل مکمل کر لیا ہے۔

دمشق کے نواحی علاقے مشرقی غوطہ میں واقع اس شہر میں مبینہ کیمیائی حملوں کی تحقیقات کی خاطر یہ معائنہ کار وہاں گئے تھے، اس چھان کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ سات اپریل کو ہوئے اس حملے میں آیا کسی ممنوعہ کیمیکل مواد کا استعمال کیا گیا تھا یا نہیں۔ شامی اپوزیشن گروپوں کی طرف سے بتایا گیا تھا کہ اس مبینہ کیمیائی حملے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔ روئٹرز کے مطابق او پی سی ڈبلیو کے معائنہ کاروں کی اس تفتیش کا ایک مقصد اس بات کا تعین کرنا بھی تھا کہ یہ ہلاکتیں کسی ممنوعہ کیمیائی مادے کے استعمال کے سبب ہوئی یا نہیں۔

Syrien-Konflikt Duma Ruinen
چھان کا مقصد یہ معلوم کرنا تھا کہ دوما میں سات اپریل کو ہوئے حملے میں آیا کسی ممنوعہ کیمیکل مواد کا استعمال کیا گیا تھا یا نہیں۔ تصویر: picture-alliance/AP/H. Ammar

روسی نیوز ایجنسی RIA کے مطابق روسی وزارت دفاع کے ترجمان ایگور کوناشینکوف نے کہا ہے کہ معائنہ کاروں نے دوما میں مذکورہ مقامات کا دورہ اور چھان بین کا عمل مکمل کر لیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ معائنہ کاروں نے نمونے حاصل کر لیے ہیں اور جلد ہی رپورٹ مرتب کر لی جائے گی۔ اس مبینہ کیمیائی حملے کا الزام شامی صدر پر عائد کیا جاتا ہے تاہم وہ اسے مسترد کرتے ہیں۔

روئٹرز کے مطابق آج جمعہ کے روز قبل ازیں سفارتی ذرائع نے بتایا تھا کہ او پی سی ڈبلیو کے معائنہ کار شامی شہر دوما میں اپنا کام مکمل کر کے جمعرات تین اپریل کی شب ہالینڈ واپس پہنچ گئے تھے۔ یہ معائنہ کار 14 اپریل کو شامی دارالحکومت دمشق پہنچے تھے۔

ا ب ا / ع ب (روئٹرز)