1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

گائے کے حوالے سے مسلمانوں کے خلاف تشدد، بھارتی فوجی گرفتار

9 دسمبر 2018

مبينہ طور پر ایک گائے کو ذبح کيے جانے کے بعد ہجوم اکٹھا کرنے اور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کے الزام میں ایک بھارتی فوجی کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس ہنگامہ آرائی کے دوران دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

https://p.dw.com/p/39l2P
Indien Chitrakoot - Streunendes Vieh
تصویر: DW/S. Mishra

جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے کے مطابق مشتعل ہجوم کو تشدد پر اکسانے کے شک پر ايک مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ گزشتہ پیر کے روز بھارتی ریاست اتر پردیش کے بلند شہر میں انتہا پسند ہندوؤں نے مقامی مسلمانوں کے خلاف پرتشدد احتجاج کیا، جس کے نتیجے میں پولیس افسر سبودھ کمار سنگھ اور ایک شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

اس احتجاج کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا، جب یہ خبریں سامنے آئیں کہ مبینہ طور پر ایک گائے کو ذبح کیا گیا۔ دائیں بازو کے قوم پرست ہندوؤں کا کہنا تھا کہ پولیس ’مقدس گائیوں‘ کی حفاظت کرنے میں ناکام ہو چکی ہے اور اس علاقے سے جانوروں کی الاشیں ملی ہیں، جن میں گائیوں کی الاشیں بھی شامل ہیں۔

بھارت کی زیادہ تر ہندو آبادی گائے کو ’مقدس‘ خیال کرتی ہے اور ملک کی زیادہ تر ریاستوں میں ان کے ذبح پر پابندی عائد ہے۔ دائیں بازو کے انتہاپسند ہندو ملک بھر میں متعدد مرتبہ ایسے افراد کو تشدد کا نشانہ بنا چکے ہیں، جو گائے کو ذبح یا پھر ان کا گوشت استعمال کرتے ہیں۔

پولیس کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق بلند شہر میں ہنگاموں کے مرکزی ملزم کا نام جتندر ملک ہے اور گزشتہ شب فوج  نے اسے پولیس کے حوالے کر دیا ہے۔ اس حوالے سے جاری کی جانے والی ویڈیو فوٹیج مقامی میڈیا پر بھی نشر کی گئی ہے۔

جس وقت یہ ہنگامے ہوئے، اس وقت یہ بھارتی فوجی چھٹی پر اپنے گھر واپس آیا ہوا تھا۔ سینئر پولیس افسر انند کمار کا مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یہ فوجی واضح طور پر مشکلات پیدا کر رہا تھا اور ہجوم کو تشدد پر اکسا رہا تھا۔ ہم اس سے مکمل تفتیش کریں گے۔‘‘

پولیس نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کیس میں کئی دیگر قوم پرست ہندوؤں کو بھی گرفتار کرے گی۔ ابھی تک اس حوالے سے چار ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

 بھارت کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سن دو ہزار بارہ سے سن دو ہزار سترہ کے درمیان گائے کے حوالے سے کم از کم اسی پرتشدد واقعات سامنے آئے اور ان میں سے ستانوے فیصد ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آنے کے بعد رونما ہوئے ہیں۔

ا ا / ع س (نیوز ایجنسیاں)