1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

بھارت:’ہندو سادھوؤں کے قتل میں مسلمان ملوث نہیں‘

جاوید اختر، نئی دہلی
22 اپریل 2020

بھارتی صوبہ مہاراشٹر کے پال گھر میں دو ہندوسادھووں اور ان کے ڈرائیور کے ہجومی قتل کو مذہبی رنگ دینے کی بعض ہندو شدت پسند تنظیموں اور جماعتوں کی کوشش بظاہر ناکام ہوگئی ہے۔

https://p.dw.com/p/3bFqH
Indien - Protest gegen Hass und Mob Lynchen
تصویر: Imago/Hundustan Times

مہاراشٹر کے وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے قتل کے سلسلے میں گرفتار 101 افراد کی فہرست جاری کرتے ہوئے کہا کہ یہ فہرست بالخصوص ان کے لیے جاری کی جارہی ہے جو اس واقعے کو مذہبی رنگ دینے میں مصروف ہیں۔  اس قتل میں کوئی مسلمان شامل نہیں ہے۔

انیل دیش مکھ نے اپنے بیان میں کہا ”یہ افسوس کی بات ہے کہ پال گھر واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔  یہ سیاست کرنے کا وقت نہیں بلکہ کورونا وائرس سے مل کر لڑنے کا ہے۔“  انہوں نے بتایا کہ ایک اعلی پولیس افسر کی قیادت میں اس واقعے کی تفتیش شروع کردی گئی ہے۔

معاملہ کیا ہے؟

گزشتہ سولہ اپریل کی دیر رات دو سادھوگجرات میں ایک سادھو کی وفات پر ان کے متعلقین سے تعزیت کے لیے ممبئی سے جارہے تھے۔ ممبئی سے کوئی 125 کلومیٹر کے فاصلے پر پال گھر ضلع کے قبائلی علاقے میں تقریباً دو سو افراد پر مشتمل ہجوم نے انہیں بچہ چور اور انسانی اعضاء کے اسمگلر کے  شبہے میں پکڑ کر بری طرح پٹائی کردی۔  اس سے تینوں کی موقع پر ہی موت ہوگئی۔ ان میں ایک سادھو کی عمر 70 برس سے زیادہ تھی۔ جس وقت یہ واقعہ پیش آیا موقع پر کئی پولیس اہلکار بھی موجود تھے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی اودھو ٹھاکرے نے اس واقعے کو مذہبی رنگ دینے کی پہلے ہی مذمت کی تھی اور اس سلسلے میں وفاقی وزیر داخلہ امیت شاہ اور اترپردیش کے وزیر اعلی یوگی ادیتیہ ناتھ سے بات بھی کی تھی۔ ہلاک ہونے والے دونوں سادھو اترپردیش کے رہنے والے تھے اور ان کا تعلق سادھوں کے ایک بااثر گروپ ’جونا اکھاڑہ‘ سے تھا۔

مذہبی رنگ دینے کی کوشش

سادھووں کے قتل کو مذہبی رنگ دینے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی سے وابستہ کئی رہنماوں نے سوشل میڈیا پر فرضی ویڈیو ڈال کر عوام کو گمراہ کرنے اور اشتعال دلانے کی کوشش کی۔ بعض نیوز چینلوں نے بھی آگ بھڑکانے کی کوشش کی۔ لیکن جب مسلمانوں کو اس واقعہ میں ملوث کرنے کی کوشش ناکام ثابت ہوگئی تو مسیحی مشنریوں کو ذمہ دار ٹھہرانے کی کوشش کی گئی۔ یہ الزام لگایا گیا کہ مسیحی اس قبائلی علاقے میں ایک عرصے سے تبدیلی مذہب کی تبلیغ کررہے ہیں۔ بعد میں بائیں بازو کی جماعتوں پر بھی الزام عائد کی گئی۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ پال گھر ضلع کے گڈا چنچلے نامی جس گاوں میں یہ واقعہ پیش آیا وہاں کے بلدیاتی ادارے پر پچھلے دس برس سے بی جے پی کا قبضہ ہے۔ بی جے پی کی چترا چودھری وہاں کی سرپنچ ہیں۔

Indien - Protest gegen Hass und Mob Lynchen
تصویر: Imago/Hundustan Times

ہر چہار جانب سے مذمت

ہجوم کے ہاتھوں سادھووں کے قتل کے اس واقعہ کی بھارت میں تمام طبقات نے مذمت کی۔ مسلم مذہبی اور سماجی تنظیموں نے کہا کہ اس طرح کا واقعہ خواہ کسی کے بھی ساتھ پیش آئے انتہائی افسوس ناک اور شرمناک ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں ہجومی تشدد میں مسلمانوں کے قتل پر جب حکومت سے سخت اقدامات کا مطالبہ کیا گیا تو کسی نے اس پر توجہ نہیں دی۔ حتی کہ حکمراں جماعت کے اہم لیڈروں نے ضمانت پر رہا ہونے والے ملزمین کی گلپوشی اور خیر مقدم کیا۔ بعض سیاسی جماعتوں نے تو ان ملزمین کو انتخابات میں اپنا امیدوار بھی بنایا۔

بھارت کے امیج کے لیے نقصان دہ

سیاسی جماعتوں نے ملک میں مذہبی منافرت پھیلانے والے گروہوں اور میڈیا پر فوراً سخت لگام لگانے کا مطالبہ کیاہے۔ بائیں بازو کی جماعت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے قومی سکریٹری اتول کمار انجان نے ڈی ڈبلیو اردو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا”ماب لنچنگ کے واقعات کی وجہ سے دنیا بھر میں بھارت کے امیج کوزبردست نقصان پہنچا ہے۔ اس طرح کے واقعات ایک مہذب سماج کے لیے انتہائی شرمنا ک ہیں۔“انہوں نے کہا کہ پچھلے چار پانچ برسوں میں ہجومی تشدد کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے اور وفاقی حکومت کو مشورہ دیا کہ ریاستی حکومتوں کے ساتھ صلاح ومشورہ کرکے ماب لنچنگ کے قصورواروں کو موت کی سزا دینے کا قانون بنائے۔

Indien Viehhändler gelyncht
تصویر: picture-alliance/AP Photo/A. Qadri

سپریم کورٹ کی ہدایت نظر انداز

بھارتی سپریم کورٹ نے جولائی 2018 میں ماب لنچنگ کے حوالے سے ایک مقدمے میں فیصلہ سناتے ہوئے وفاقی اورریاستی حکومتوں سے لنچنگ اور ہجومی تشدد کو روکنے، اس کے تدارک اور قصورواروں کو سزا دینے کے لیے متعدد اقدامات کا ذکر کیا تھا اور ریاستوں کو ہدایت دی تھی کہ ہجومی قتل کے معاملات کی سماعت کے لیے خصوصی فاسٹ ٹریک عدالتیں بنائی جائیں۔ سپریم کورٹ نے ایک سال بعد جولائی 2019 میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو نوٹس جاری کرکے دریافت کیا کہ اس کی ہدایت پر کتنا عمل ہوا ہے۔

ریاستی حکومتیں ماب لنچنگ کو ختم کرنے کے لیے کتنی سنجیدہ ہیں اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اب تک صرف تین ریاستیں منی پور، مغربی بنگال اور راجستھان نے ہی سپریم کورٹ کی ہدایات پرپوری طرح عمل کیا ہے۔

 ماب لنچنگ کے واقعات میں اضافہ

انسانی حقوق کے لیے سرگرم بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ایک رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ماب لنچنگ کے واقعات میں کافی اضافہ ہوا ہے۔ مئی 2015 سے دسمبر 2018 کے درمیان ماب لنچنگ کے واقعات میں کم از کم 44 افراد کے قتل کے معاملات درج کرائے گئے۔ سینکڑوں دیگر افراد زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں اکثریت مسلمانوں کی تھی جب کہ نچلی ذات کے ہندو بھی ان میں شامل تھے۔

کانگریس کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر سلمان خورشید کہتے ہیں ”ہجومی تشدد نے اخلاق، تبریز انصاری، پہلو خان، گنیش، جنید، نعیم، گنیش کے خون کا ذائقہ چکھ لی اتھا اور اب اس نے پال گھر میں سادھووں کو بھی اپنا شکار بنالیا۔ کورونا کی طرح یہ تشدد اورنفرت رکنے والی نہیں ہے۔ لیکن پال گھر میں انسانیت کا خون ہوا ہے۔“

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں