1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں
سیاستجرمنی

بے سہارا بچے بیدخل نہ کیے جائیں، یورپی عدالتِ انصاف

14 جنوری 2021

یورپی عدالتِ انصاف نے رکن ریاستوں کو ہدایت کی ہے کہ بے سہارا مہاجر بچوں کو بیدخل کرنے سے اجتناب کریں۔ عدالت نے بے سہارا سے مراد وہ بچے لیے ہیں، جن کی ان کے وطن میں نگہداشت کرنے والا اور سنبھالنے والا کوئی نہیں۔

https://p.dw.com/p/3nv2W
Luxemburg Schild Europäischer Gerichtshof EuGH
تصویر: Imago Images/P. Scheiber

یورپی عدالتِ انصاف کے جمعرات چودہ جنوری کے دیے گئے فیصلے کو انسان دوستی کے تناظر میں لیتے ہوئے انتہائی اہم قرار دیا گیا ہے۔ اس فیصلے میں رکن ریاستوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ان مہاجر بچوں کو بیدخل کرنے سے گریز کریں، جن کا ان کے وطن میں دیکھ بھال کرنے والا اور ان کا کوئی مناسب والی وارث نہ ہو۔ یورپی عدالتِ انصاف کا صدر دفتر یورپی یونین کی رکن ریاست لکسمبرگ میں واقع ہے۔

Indien Gemälde Aylan Kurdi
پرتشدد تنازعات اور جنگی حالات سے انسانی مہاجرت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہےتصویر: Getty Images/AFP/I. Mukherjee

بچوں کے مفاد کی فوقیت

تجزیہ کاروں کے مطابق یورپی عدالت کے ججوں نے اپنے فیصلے میں مہاجر بچوں کی پرورش اور نگرانی کو مقدم خیال کیا ہے۔ اس فیصلے میں رکن ریاستوں کو ہدایت کی گئی کہ اگر انہیں کسی بچے کو بیدخل ہی کرنا ہے تو اس کے بالغ یعنی اٹھارہ برس کی عمر تک پہنچنے کا انتظار کریں۔جرمنی: نابالغ مہاجرین کو ضمنی تحفظ دیے جانے کی شرح میں کمی

عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ اٹھارہ برس سے کم عمر کے بچوں کی بیدخلی کا سلسلہ مروجہ یورپی قوانین کے منافی ہے۔

بے یقینی کی صورت حال

ججوں نے واضح کیا کہ بیدخل کیے جانے والے کم سن بچوں کو ایک بے یقینی کی صورت حال سے نکال کر اسی طرح کے مشکل حالات سے دوچار کر دینا ایک نامناسب اور غیر دانشمندانہ عمل ہو سکتا ہے۔

عدالت نے ہالینڈ کی اس عمل کو بھی مسترد کر دیا جس کے تحت وہ کم سن سیاسی پناہ کے متلاشیوں اور مہاجرین کو 'ریفیوجی پروٹیکشن‘ کا درجہ دینے سے انکاری ہے۔

Griechenland Lesbos | Flüchtlingssituation nach dem Brand in Moria
یونان اور دوسرے یورپی ملکوں کے مہاجر کیمپوں میں بے شمار کم سن مہاجر موجود ہیںتصویر: DW/M. Karakoulaki

واپسی پر مناسب نگہداشت

عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ پندرہ سال سے کم عمر بچوں کو بیدخل کرتے وقت یورپی ملکوں کو یہ دیکھنا ہو گا کہ ان کے آبائی وطن میں ان کے پہنچنے کے بعد کی صورت حال کیسی ہو گی اور انہیں کیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔مہاجر لڑکیوں کو جسم فروشی پر مجبور کیا جا سکتا ہے، آئی او ایم

عدالت نے ایسے بچوں کی واپسی کو بالغ ہونے کی عمر سے بھی نتھی کیا ہے۔ اس تناظر میں ہالینڈ کی حکومت کو بتایا گیا ہے کہ اگر وہ کم سن بچوں کو بیدخل کرنا چاہتی بھی ہے تواس بچے کے کے بالغ ہونے کا انتظار کرے۔

Griechenland Corona-Pandemie Flüchtlingslager
مہاجرت کے خطرناک سفر میں کئی نومولود بھی زندگی سے محروم ہو گئےتصویر: DW/F. Campana

اپیل کرنے والا ٹین ایجر

یورپی عدالتِ انصاف میں بیدخلی کے خلاف اپیل ایک پندرہ سال چار ماہ کے ٹین ایجر نے دائر کی تھی۔ بچے نے درخواست میں کہا کہ وہ گنی میں پیدا ہوا لیکن بچپن کا کچھ عرصہ سیرالیون میں اپنی خالہ کے پاس گزارا اور وہ انسانی اسمگلروں کی ترغیب سے کمسنی میں یورپ کے لیے روانہ ہوا۔شیر خوار بچوں سمیت درجنوں مہاجرین سمندر میں ڈوب کر ہلاک

اس دوران اسے شدید ذہنی کوفت اور بیچارگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہالینڈ کی حکومت اسے واپس بھیجنا چاہتی تھی کیونکہ وہ مہاجرت کے ضابطوں پر پورا نہیں اترتا تھا۔

 رچرڈ کونرز(ع ح، ع ا)