1. مواد پر جائیں
  2. مینیو پر جائیں
  3. ڈی ڈبلیو کی مزید سائٹس دیکھیں

'زرعی قوانین کا نفاذ حکومت نہیں روکےگی تو ہم روک دیں گے'

صلاح الدین زین نئی دہلی
11 جنوری 2021

بھارتی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے متنازعہ زرعی قوانین کے نفاذ پر روک نہ لگائی تو پھر عدالت خود اس پر کارروائی کرے گی۔

https://p.dw.com/p/3nmre
Indien Bauernproteste
تصویر: Mayank Makhija/NurPhoto/picture alliance

بھارتی سپریم کورٹ نے کاشتکاری سے متعلق متنازعہ قوانین کے خلاف متعدد درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا ہے کہ جس انداز سے کسان تنظیموں اور حکومت کے درمیان بات چیت کی پیش رفت ہوئی ہے اس پر اسے کافی مایوسی ہے اور عدالت اب خود جلد ہی اس پر فیصلہ سنائے گی۔

عدالت عظمی نے مرکزی حکومت سے کہا کہ جب تک ان قوانین سے متعلق اس کی تشکیل کردہ کمیٹی میں اس کے تمام پہلوؤں پر بات چيت کے بعد اس کی رپورٹ تیار نہیں ہو جاتی اس وقت تک ان قوانین کو ملتوی کرنے کی ضرورت ہے۔ ’’لیکن ہمیں آپ سے یہ پوچھنا ہے کہ آپ کیھتی سے متعلق ان قوانین کو خود روکتے ہیں یا پھر ہم خود ایسا کریں۔‘‘

عدالت نے کہا کہ اگر کسان تنظیمیں اس کی حامی ہیں تو انہیں اس سے متعلق اس کی کمیٹی کے سامنے یہ بات کہنے دیں اور پھر دیکھا جائے گا کہ اس کا نفع یا نقصان کیا ہے۔ لیکن، ’تب تک کے لیے اسے معطل کر دیا جائے۔‘ عدالتی بیان میں کہا گیا،’’ آخر مسئلہ ہے کیا۔ ہم آسانی سے کسی قانون پر حکم امتناع کے قائل نہیں ہیں تاہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قانون کا نفاذ مت کیجیئے۔ اس کو وقار کا مسئلہ کیوں بنایا جا رہا ہے۔‘‘

بھارت میں متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف کسانوں کی تحریک سے پیدا شدہ بحران کو ختم  کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ کئی ادوار میں بات چیت اب تک ناکام رہی ہے اور فریقین کے اپنے اپنے موقف پر مُصر رہنے کی وجہ سے تعطل ہنوز برقرار ہے۔ دھرنے پر بیٹھے اب تک چالیس سے زیادہ  کسان ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ زبردست سردی اور بارش کے سبب میدان میں بیٹھے مظاہرین کے لیے مشکلیں بڑھتی جا رہی ہیں۔

کئی تنظیموں نے ان قوانین کو عدالت میں چیلنج کیا تھا جس پر سماعت کے دوران عدالت نے کہا کہ اگر وہاں کچھ بھی غلط ہوا تو اس کے لیے، ''ہم سب ذمہ دار ہوں گے۔ ہم کسی زخم یا پھر خون کا الزام اپنے ہاتھ نہیں لینا چاہتے۔ ہمیں نہیں لگتا کہ آپ اس معاملے سے موثر انداز میں نمٹ رہے ہیں۔ ہم اس پر آج ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔ اگر تشدد برپا ہوا تو اس کی ذمہ داری کون لیگا؟‘‘ 

حکومت کی جانب سے اٹارنی جنرل کے کے وینوگوپال نے جب عدالت سے یہ کہا کہ آخر سرکار اور کسان وفود کے درمیان بات چیت ہو رہی ہے تو آرڈر پاس کرنے کی اتنی  جلدی کیا ہے؟ اس پر جج نے کہا، ''ہمیں صبر کا لیکچر مت دیجیے۔ ہم آپ کو پہلے ہی بہت وقت دے چکے ہیں۔‘‘

عدالت کا کہنا تھا کہ آخری سماعت کے وقت بھی حکومت کو جواب دینے کے لیے مہلت دی گئی تھی تاہم اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ ''حالت پہلے سے مزید خراب ہوئی ہے۔ کئی لوگ تو خود کشی کر چکے ہیں۔ اس سخت موسم میں آخر خواتین اور بچے اس مظاہرے کا حصہ کیوں ہیں؟ بزرگ، خواتین اور بچوں کو واپس جانے دیں۔‘‘

گزشتہ تقریباً ڈیڑھ ماہ سے کسان ذرعی قوانین کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کر رہے ہیں اور ہزاروں کسان قومی دارالحکومت میں داخل ہونے والی پانچ سرحدوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے سڑکوں پر میلوں تک اپنے ٹرک، جیپ اور دوسری گاڑیاں کھڑی کر کے انہیں عارضی خیموں میں تبدیل کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ چھ ماہ تک رکنے کی پوری تیاری کے ساتھ آئے ہیں۔

اس سنگین صورت حال کا کوئی حل تلاش کرنے کے لیے مودی حکومت کے تین مرکزی وزراء کسانوں کی چالیس تنظیموں کے رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں۔ تاہم اب تک آٹھ ادوار کی بات چيت کے بعد بھی تعطل برقرار ہے۔ کسان تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ حکومت نئے قانون واپس لے تاہم حکومت اس پر راضی نہیں ہے۔ اس سلسلے میں منگل 15 جنوری کو ایک اور دور کی بات چیت طے ہے۔

اس موضوع سے متعلق مزید سیکشن پر جائیں

اس موضوع سے متعلق مزید

مزید آرٹیکل دیکھائیں